سوات کوہستان : سوات کا ایک خوب صورت اور پُر کشش علاقہ

سوات کوہستان وسیع و عریض وادیٔ سوات کا ایک خوب صورت اور پُر کشش علاقہ ہے۔ اس کی حدود مدین اور بحرین کے درمیان واقع ایک حسین مقام ’’ساتال‘‘ (مشکون گٹ) سے شروع ہوتی ہیں اور بحرین ، کالام، اُتروڑ، گبرال، اُوشو، مٹلتان اور مہوڈنڈ کے سحر انگیز مقامات اور ان کی بلند و بالا برف پوش چوٹیوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ جغرافیائی طور پر سوات سے کوئی الگ علاقہ نہیں ہے بلکہ اپنی مخصوص زمینی ساخت، زبان اور بلند و بالا پہاڑوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اسے ’’سوات کوہستان‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ بحرین کو سوات کوہستان کا دروازہ کہا جاتا ہے اور اس مقام پر مہوڈنڈ اور گبرال سے نکلا ہوا دریائے سوات درال ندی کو اپنی بپھری ہوئی لہروں میں ضم کر لیتا ہے۔

سوات کوہستان کا پورا علاقہ سردیوں میں برف کی سپید چادر اوڑھے رکھتا ہے اور یہاں سردیوں میں 10 سے 16 فٹ تک برف پڑتی ہے۔ اس کے پہاڑی علاقے برفانی باد و باراں کی لپیٹ میں رہتے ہیں اور بیشتر علاقوں کے مکین اپنے اپنے گھروں میں شدید برف باری کے باعث محصور ہو کر رہ جاتے ہیں۔ سردی کے موسم میں بعض اوقات یہاں بڑے بڑے گلیشیئر پہاڑوں کی بلندیوں سے لڑھکتے ہوئے نیچے کی طرف آتے ہیں جن کی تند و تیز ہوا سے بڑے بڑے مضبوط درخت بھی جڑ سے اُکھڑ جاتے ہیں۔ سردی کے موسم میں زیادہ برف باری کی وجہ سے اُتروڑ، گبرال اور مٹلتان وغیرہ کی وادیوں سے دیگر علاقوں کا زمینی راستہ کٹ جاتا ہے اور کئی ہفتوں تک یہاں کے باشندے سوات کے مرکزی شہر منگورہ تک آنے جانے سے قاصر رہتے ہیں۔

بحرین کی وادی میں زیادہ تر جو کوہستانی بولی جاتی ہے، اسے توروالی کہتے ہیں جبکہ کالام اور اس کے قرب و جوار کے مقامات کے لوگ گاؤری نامی کوہستانی زبان بولتے ہیں۔ تاہم پشتو زبان یہاں عام بولی جاتی ہے اور بیشتر لوگ اُردو بھی بآسانی بول اور سمجھتے ہیں۔’’سوات کوہستان‘‘ کا پورا علاقہ وادیٔ سوات میں سب سے زیادہ حسین اور پُرکشش ہے۔ جہاں خوب صورت جھیلیں ہیں ، گن گناتے آبشار ہیں ، صحت بخش پانی کے چشمے ہیں ، منہ زور ندیاں ہیں ، فلک بوس اور برف پوش چوٹیاں ہیں ، گھنے جنگلات ہیں ، قیمتی جڑی بوٹیاں ہیں ، گل رنگ اور خوش رنگ پھول ہیں ، نایاب پرندے اور جنگلی جانور ہیں ، دل موہ لینے والے وسیع سبزہ زار ہیں اور سب سے بڑھ کر پُر خلوص اور مہمان نواز لوگ ہیں۔ جن کی تمام تر معیشت کا انحصار جنگلات کی رائلٹی اور سیاحوں کی آمد و رفت پر ہے۔ پورے علاقہ میں سیاحوں کے لئے ہر قسم کی سہولتیں موجود ہیں۔ ہر معیار کے جدید ہوٹل اور ریسٹ ہاؤس ہیں جن میں سیاحوں کے لئے کم و بیش ہر نوع کی سہولتیں موجود ہیں۔

کوہِ ہندوکش اور کوہِ ہمالیہ کے طویل سلسلوں سے گھِرا ہوا یہ پورا علاقہ نہایت خوش گوار اور معطر آب و ہوا پر مشتمل ہے۔ یہاں کے پہاڑوں اور جنگلات میں مرغ زرین، چکور، ہرن اور ریچھ وغیرہ جیسے نایاب پرندے اور جانور پائے جاتے ہیں۔ جن کے تحفظ کے لئے حکومت نے کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے یہ نادر جانور اور نایاب پرندے یہاں سے بڑی تیزی سے معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں دریائے سوات کے ٹھنڈے پانی میں ٹراؤٹ مچھلیاں بھی پائی جاتی ہیں جو اپنی منفرد لذّت کے لحاظ سے شہرت کی حامل ہیں۔ ان مچھلیوں کا شکار خود بھی کیا جا سکتا ہے اور تیار تازہ مچھلیاں خریدی بھی جا سکتی ہیں۔ تاہم ان کے شکار سے لطف اندوز ہونے کے لئے متعلقہ محکمہ کے مجاز اہل کاروں سے باقاعدہ اجازت (پرمٹ) لینا پڑتی ہے۔

سوات کوہستان اپنی بے پناہ خوب صورتی اور غیر معمولی رعنائی کی وجہ سے سیاحوں کے لئے جنت کی حیثیت رکھتا ہے اور یہاں کی معّطر اور پُر کشش وادیوں کی رنگینوں سے لطف اندوز ہو کر سیاح بار بار یہاں کا رْخ کرتے ہیں۔ نہ صرف یہاں کے حسین قدرتی مناظر سے محظوظ ہوتے ہیں بلکہ یہاں کی مقامی مصنوعات، تازہ پھل، شہد اور اخروٹ جیسی سواتی سوغات بھی اپنے ساتھ لے  جاتے ہیں۔

فضل ربی

Advertisements

دریائے سوات کا پانی آلودہ ہونے لگا

دریائے سوات کا صاف و شفاف پانی آہستہ آہستہ آلودہ ہو رہا ہے۔ سوات کے شہر مینگورہ کے ہجوم کو قابو میں رکھنے کیلئے گزشتہ دور حکومت میں دریائے سوات کے کنارے بائی پاس روڈ بنایا گیا تو سڑک کنارے کئی ریسٹورنٹس اور     ہوٹل تعمیرکر لئے گئے ۔ ان ریسٹورنٹس اور ہو ٹلوں کے پانی کے نکاس اور گٹر کا پانی براہ راست دریا میں جانے سے دریائے سوات کا پانی آہستہ آہستہ آلودہ ہونے لگا، ساتھ ہی ساتھ شہر بھر کا کُوڑا کرکٹ بھی دریا کنارے پھینکا جا رہا ہے، جس سے گندگی اور تعفن پھیل رہا ہے ۔ ہوٹلوں کی گندگی اس دریا میں ڈالی جاتی ہے، اب تو اس میں کو ئی نہا بھی نہیں سکتا۔

ماضی میں دریائے سوات کا پانی اس قدر صاف، شفاف تھا کہ اسے پینے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا تھا، تاہم اب آلودہ ہو نے والا پانی انسانوں کے ساتھ ساتھ فصلوں اور مچھلیوں کیلئے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ شہر کے ناظم اکرام خان کہتے ہیں کہ گندگی پھیلانے والے ہوٹلوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔
شہری کہتے ہیں کہ دریا کنارے آباد ہوٹلوں کی انتظامیہ کو اگر دریا میں گندگی ڈالنے سے نہ روکا گیا تو انسانوں سمیت دریا میں موجود مچھلیوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

سوات میں سید اکبر شاہ کی حکومت

سوات صدیوں سے قبائلی دور سے گزر رہا تھا کہ 1850ء میں اخون صاحبِ سوات (سیدو بابا) نے سوات اور بونیر کے باشندوں کے مشورے سے ستھانہ کے رئیس سید اکبر شاہ کو سوات کا بادشاہ منتخب کیا۔ جدید سوات کی پہلی شرعی حکومت کا دارالخلافہ موضع غالیگی قرار پایا۔ شریعت اسلامیہ کے نام سے حکومت نے کام شروع کیا۔ اس دوران ہندوستان کی جنگِ آزادی 1857ء کا آغاز ہوا۔ اس وقت جب کہ مذکورہ جنگ کی خبریں سرزمینِ سرحد میں پہنچنے لگی تھیں، 11 مئی 1857ء کو سید اکبر شاہ وفات پا گئے۔ان کے انتقال سے اس اولین حکومت کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ انگریزوں کو، اس حکومت سے جو خطرہ پیدا ہو رہا تھا، اس کا اندازہ سر ہربرٹ ایڈورڈ کے ان الفاظ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ ’’ اگر سوات میں شرعی حکومت اور جنگجو قبائل کا سربراہ سید اکبر شاہ زندہ ہوتا تو 1857ء کی جنگ کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔‘‘

فضل ربی

سوات اور ٹیکسلا میوزیم : بدھ دور کے آثار کی ایک قابل قدر یادگار

سوات میوزیم

وادیٔ سوات اپنے سحر انگیز مناظر فطرت کے ساتھ بدھ دور کے آثار قدیمہ میں عالمی شہرت کا مالک ہے۔ وادی بدھ اسٹوپا کی کثرت اور بدھ دور کے آثار کی کھدائیوں سے نمایاں ہوئی ہے۔ اس کو پاکستان بننے کے بعد سابق والیٔ سوات میاں گل جہاں زیب نے اپنے دور میں سیدو شریف میں ایک میوزیم بنا کر مزید شہرت دی ہے۔ یہ ’’سوات میوزیم‘‘ بھی بدھ دور کے آثار کی ایک قابل قدر یادگار ہے اور بہت سی کھدائیوں سے جو قدیم اشیا نکلی ہیں یا نکل رہی ہیں ان کے لیے ایک خوبصورت عمارت تعمیر کی گئی ہے۔

ٹیکسلا میوزیم

 یہ راولپنڈی کے شما ل میں 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ بدھ تہذیب کا مقدس مقام گندھارا کی مجسمہ سازی کا گہوارہ اور تعلیم و تہذیب کا مرکز رہا ہے۔ ٹیکسلا میں گوتم بدھ کا ایک قد آور مجسمہ ہے جس کی آنکھیں دیکھنے والوں کو حیران کن حد تک مسحور کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ مقدونیہ کے سکندر اعظم کے مجسمے بھی یہاں پائے جاتے ہیں۔ ٹیکسلا کا میوزیم ایک بھرپور مکمل عجائب گھر ہے۔ قدآور اور مختلف سائز کے مجسموں اور تمدنی زندگی کے مختلف مشاہیر کے نمونے، حیرت انگیز فنی کمالات سے ساختہ سونے کے زیورات، گھریلو سامان اور یونانی اور بدھ دور کے مختلف عجائبات بڑی محنت سے یہاں جمع کیے گئے ہیں۔ یہ عجائب گھر ساری دنیا میں مشہور ہے۔ ٹیکسلا اور اس کے میوزیم کو دیکھنے کے بعد ہی سمجھا جا سکتا ہے۔

شیخ نوید اسلم

سوات کے پہاڑ

سوات میں پہاڑوں کے مختلف نام ہیں جن میں سے ایک ’’گنہگار‘‘ ہے یہ پہاڑ ضلع سوات اور دیر کے درمیان سطح سمندر سے 15 ہزارفٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اس پہاڑ کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہاں سبز، سرخ ، سفید اور دیگر کئی رنگوں کی برف نظر آتی ہے جو سیاحوں کے لئے یقینا باعث حیرت اور دلچسپی ہے۔ اگرچہ عام طور پر برف سپید رنگ کی ہوتی ہے لیکن یہاں چوں کہ ہمیشہ برف جمی رہتی ہے اور بہت کم پگھلتی ہے، اس لئے اس کا رنگ بدلتا رہتا ہے۔ یہ دل کش پہاڑ سارا سال برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ کے بارے میں مشہور ہے کہ قدیم زمانے میں اس سے ایک بزرگ نے پتھر مانگے تھے تا کہ وہ اسے تعمیراتی کام میں استعمال کر سکے لیکن اس پہاڑ نے دینے سے انکار کیا تھا جس کی پاداش میں بزرگ نے اسے بد دعا دی اور اس وجہ سے یہ پہاڑ ہمیشہ برف کی سپید چادر اوڑھے رہتا ہے۔

ایلم : یہ پہاڑ سطح سمندر سے 9250 فٹ بلند ہے۔ جو بونیر اور سوات کے درمیان حد فاصل کا کام دیتا ہے۔ سوات میں سب سے زیادہ سرسبز یہی پہاڑ ہے۔ رام تخت اس پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے جو ہندوؤں کی ایک عبادت گاہ (تیرتھ) ہے۔ جس کی زیارت کے لئے متحدہ ہندوستان کے دور دراز علاقوں سے ہندو یاتری آیا کرتے تھے۔

دوہ سرے: یہ پہاڑ سطح سمندر سے10 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہ پہاڑ بھی ایلم کی طرح زرخیز ہے جو ’’ایلم‘‘ سے ملحق سوات اور بونیر کے درمیان واقع ہے۔ دوہ سری بانڈہ اس پہاڑ کا درہ ہے۔ جس پر مخوزی اور سوات کے لوگ آتے جاتے ہیں۔

فلک سیر: فلک سیر سوات کے شمالی پہاڑوں کے سلسلے کالام میں واقع ہے۔ اس کی بلندی قریباً 20 ہزار فٹ ہے۔ اس کا قدیم نام پالا سر بتایا جاتا ہے۔

مانکیال (مانڑکیال): سوات کوہستان میں یہ ایک مشہور پہاڑ ہے۔ جو وادیٔ بحرین میں واقع ہے۔ یہ پہاڑ سطح سمندر سے 18750 فٹ بلند ہے۔ قدرتی مناظر اور خوب صورتی کے لحاظ سے یہ سوات کا حسین ترین پہاڑ ہے۔ یہاں مرغ زریں کے علاوہ دوسرے پہاڑی مرغ بھی پائے جاتے ہیں جو حسن اور دل کشی میں لاثانی ہیں۔ اس کی چوٹی ہمیشہ برف کی سپید چادر سے ڈھکی رہتی ہے۔

وادی سوات کے حکمران

سکندرِ اعظم کے حملے کے بعد 304 قبل از مسیح میں جب اس کے مشہور جرنیل سیلوکس نے ہندوستان پر دوبارہ حملہ کیا تو اس نے دریائے سندھ کے اس پار مفتوحہ علاقے جن میں سوات، بونیر وغیرہ کے علاقے بھی شامل تھے، ہندوستان کے راجہ چندر گپت موریہ کے حوالے کر دیئے۔ چندر گپت موریہ نے ان علاقوں کے باشندوں کو پوری مذہبی آزادی دی تھی اور ان پر بے جا پابندیاں عائد کرنا پسند نہیں کیا تھا۔ چندر گپت موریہ نے بدھ مت قبول کر لیا تھا اور اپنے وقت کا مشہور ترین حکمران سمجھا جاتا تھا۔ اس نے بدھ مت کی تبلیغ میں نمایاں حصہ لیا لیکن اس کی زیادہ توجہ ہندوستان کے دوسرے علاقوں کی طرف رہی اور گندھاراکے علاقہ (سوات،باجوڑ،بونیر،مردان، چارسدہ ،ٹیکسلا وغیرہ) میں بدھ مت کی کسی غیر معمولی سرگرمی کا پتہ نہیں چلتا۔

چندر گپت موریہ کے بعد اس کے بیٹے”بندوسرا” نے 297 قبل از مسیح سے 272 قبل از مسیح تک اپنے باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے کامیابی سے حکومت کی۔ اس نے بھی ہندوستان میں بدھ مت کی تبلیغ پر خصوصی توجہ دی اور سندھ پار گندھارا کی طرف کوئی خاص توجہ نہ دی۔ عہدِ اشوک:اس کے بعد چندر گپت موریہ کے پوتے اور تاریخِ ہند کے مشہور ترین حکمران اشوک کی باری آئی۔ اس نے 274 قبل از مسیح میں مسندِ اقتدار پر براجمان ہو کر اپنے آپ کو بدھ مت کی ترقی و تبلیغ کے لئے وقف کر دیا۔ بدھ مت کو ان کے عہدِ حکومت میں بہت عروج حاصل ہوا۔ انہی کے زمانے میں بْدھ مت کو گندھارا میں مقبولیت حاصل ہوئی اور انہی کے دورِ حکومت میں بْدھ مت کو ہندوستان سے نکل کر افغانستان ،سیلون اور دوسرے دور دراز کے ملکوں تک پہنچنے کا موقع ملا تھا۔

اشوک کے دورحکومت میں ملک کے دور دراز علاقوں میں کتبے نصب کئے گئے جن میں علاقہ یوسف زئی کا کتبہ شاہبازگڑھی (مردان) کے مقام پر کافی شہرت رکھتا ہے۔237 قبل از مسیح میں ہندوستان اور سلطنت گندھارا کا یہ مشہور حکمران دنیا سے رخصت ہوا۔

اشوک کے بعد: مہاراجہ اشوک کے بعد بدھ مت کا زوال شروع ہوا۔ ہندوؤں نے پھر سر اْٹھایا۔ یونانی حکمران جو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہو چکے تھے، دوبارہ اپنی حکومت کے قیام کے لئے تگ و دو کرنے لگے۔ اس دوران وسط ایشیا کے قبائل نے اس علاقے کا رْخ کیا تو قبیلہ ساکا اور کشان وغیرہ گندھارا میں دکھائی دینے لگے۔

بدھ مت کے آثارِ قدیمہ اور چینی سیاحوں کی آمد: سوات نے عہدِ قدیم میں اس وقت نمایاں ترقی کی جب یہاں بدھ مت کو عروج حاصل تھا۔ چینی سیاح ہیون سانگ نے اس وقت اس علاقہ کا رقبہ اندازاً 833 میل ظاہرکیا۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ یہ علاقہ اس وقت موجودہ سوات کے علاوہ دریائے سندھ کے مغرب کی طرف کی پہاڑیوں اور درد (انڈس کوہستان) کے علاقوں تک پھیلا ہوا تھا۔ دوسرے چینی سیاح فاہیان کے مطابق اس علاقے میں بدھ مت کے پانچ سو معبد پجاریوں سے بھرے ہوئے نظر آتے ہیں اور پھرجب 630ء میں ہیون سانگ نے بدھ مت کے دور زوال میں اس علاقے کو دیکھا تو اس کی چودہ سو خانقاہیں (جن میں اٹھارہ ہزار بھکشو رہائش پذیر تھے) ویران دکھائی دیتی ہیں۔

بدھ مت کے جس قدر آثار سوات میں ملے ہیں، اتنے آثار پاکستان کے کسی اور علاقہ میں نہیں ملے ہوں گے۔ بدھ مت دور کے بہت سے آثار دریافت کئے گئے ہیں جب کہ ان سے کہیں بڑھ کر زمین کے سینے میں پوشیدہ ہیں۔ 1956ء میں ریاستِ سوات میں اٹلی کے مشہور ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر ٹوچی کی زیر نگرانی ایک پوری جماعت نے سوات کے آثارِ قدیمہ کی کھدائی کی تھی جس میں بہت سے آثار ظاہر ہوئے اور ان سے بے شمار قیمتی نوادرات برآمد ہوئے۔ جن میں کچھ نوادرات تو معاہدہ کے مطابق حکومتِ اٹلی کودے دیئے گئے اور کچھ نوادرات کوسوات میوزیم میں محفوظ کر لیا گیا۔ سوات میں بدھ مت کے مشہور آثار بٹ کڑا، نجی گرام، اوڈی گرام، بری کوٹ اور جہان آباد وغیرہ کے مقامات پر دریافت ہوئے ہیں۔

فضل ربی

سوات میں آٹھ لاکھ سیاحوں کی آمد

خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات میں سیاحوں کی آمد میں غیر معمولی اضافے سے سیاحتی مقامات میں موجود ہوٹل بھر گئے ہیں اور سیاحوں کی ایک بڑی تعداد کو کرائے کے مکانات میں رہائش کا انتظام کرنا پڑا ہے۔ کالام ہوٹلز ایسوسی ایشن کے صدر عبدالودود نے بتایا کہ یہ پہلی بار ہے کہ سوات میں بڑی تعداد میں آنے والے سیاحوں میں غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں جس میں زیادہ تر خواتین ہیں اور وہ مختلف ہوٹلوں میں ٹھہرے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کالام میں 250 کے قریب چھوٹے بڑے ہوٹلز موجود ہیں جو تمام کے تمام بھرے ہوئے ہیں۔

سوات میں اس برس آنے والے سیاحوں کی تعداد کے حوالے سے اگرچہ واضح اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں تاہم اس بارے میں سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس موسم گرما میں آٹھ لاکھ سے زائد سیاح سوات آئے ہیں جبکہ گذشتہ 10 دنوں کے دوران سوات میں سیاحوں کی دس ہزار سے زائد گاڑیاں داخل ہوئی ہیں جبکہ عید کے دنوں میں یہ تعداد بارہ سے پندرہ ہزار گاڑیاں یومیہ تک پہنچ گئی تھی۔
سوات میں ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر الحاج زاہد خان نے بتایا کہ سوات سیاحوں کے لیے جنت ہے یہاں پر قائم ہوٹلز کے نرخ مری اور ملک کے دیگر سیاحتی مقامات سے پچاس فیصد کم ہیں جو کہ سیاحوں کے لیے ایک نعمت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سوات میں 350 سے زائد ہوٹلز ہیں جن میں ایک رات میں تیس ہزار کے قریب سیاح قیام کر سکتے ہیں جبکہ 400 کے قریب ریسٹورانٹ ہیں جو دریائے سوات کے کنارے اور دیگر تفریحی مقامات پر قائم ہیں۔

پاکستان کے شمالی علاقوں کے سیاحتی مراکز میں سوات ایک خوبصورت مقام ہے
وادی کالام کے ناظم حبیب اللہ ثاقب نے بتایا کہ امن کی بحالی کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ سیاحوں کی ایک کثیر تعداد نے سکیورٹی خدشات اور خوف کو پس پشت ڈال کر نہ صرف کرائے پر مکانات حاصل کیے ہیں بلکہ رہائشی مشکلات سے بچنے کے لیے دریائے کالام اور مہوڈنڈ کے مقام پر ٹینٹ ویلیج کا قیام بھی عمل میں لایا گیا جبکہ بیشتر سیاحوں نے جگہ نہ ملنے کے باعث رات کھلے آسمان تلے گزاری۔ مدین کے مقامی دکاندار احسان نے بتایا کہ علاقے میں ہوٹلوں کے علاوہ بیس سے تیس کے قریب فیملیز کرائے کے مکانات میں رہائش پذیر ہیں جس سے نہ صرف ان کا روزگار بہتر ہوا ہے بلکہ سرِ شام بند ہونے والے بازار اور دکانیں اب دیر تک کھلی رہتی ہیں جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ سوات میں موجود خوف کے سائے اب ختم ہوگئے ہیں۔

بحرین کے مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ دہشت گردی اور سیلاب سے متاثرہ معیشت کا پہیہ اب ترقی کی راہ پر چل پڑا ہے اور علاقے میں سیاحتی سرگرمیوں سے زندگی کی رونقیں بحال ہوئی ہیں۔ وہ اس بات پر بہت خوش تھے کہ بڑے شہروں کی طرح ان کے گاؤں کا بازار بھی رات دیر تک کھلا رہتا ہے اور سیاح بغیر کسی ڈر کے ان بازاروں کی رونقیں بڑھا رہے ہیں۔ ب تیزی سے گامزن ہے۔

انور شاہ
صحافی، سوات