سوات اور ٹیکسلا میوزیم : بدھ دور کے آثار کی ایک قابل قدر یادگار

سوات میوزیم

وادیٔ سوات اپنے سحر انگیز مناظر فطرت کے ساتھ بدھ دور کے آثار قدیمہ میں عالمی شہرت کا مالک ہے۔ وادی بدھ اسٹوپا کی کثرت اور بدھ دور کے آثار کی کھدائیوں سے نمایاں ہوئی ہے۔ اس کو پاکستان بننے کے بعد سابق والیٔ سوات میاں گل جہاں زیب نے اپنے دور میں سیدو شریف میں ایک میوزیم بنا کر مزید شہرت دی ہے۔ یہ ’’سوات میوزیم‘‘ بھی بدھ دور کے آثار کی ایک قابل قدر یادگار ہے اور بہت سی کھدائیوں سے جو قدیم اشیا نکلی ہیں یا نکل رہی ہیں ان کے لیے ایک خوبصورت عمارت تعمیر کی گئی ہے۔

ٹیکسلا میوزیم

 یہ راولپنڈی کے شما ل میں 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ بدھ تہذیب کا مقدس مقام گندھارا کی مجسمہ سازی کا گہوارہ اور تعلیم و تہذیب کا مرکز رہا ہے۔ ٹیکسلا میں گوتم بدھ کا ایک قد آور مجسمہ ہے جس کی آنکھیں دیکھنے والوں کو حیران کن حد تک مسحور کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ مقدونیہ کے سکندر اعظم کے مجسمے بھی یہاں پائے جاتے ہیں۔ ٹیکسلا کا میوزیم ایک بھرپور مکمل عجائب گھر ہے۔ قدآور اور مختلف سائز کے مجسموں اور تمدنی زندگی کے مختلف مشاہیر کے نمونے، حیرت انگیز فنی کمالات سے ساختہ سونے کے زیورات، گھریلو سامان اور یونانی اور بدھ دور کے مختلف عجائبات بڑی محنت سے یہاں جمع کیے گئے ہیں۔ یہ عجائب گھر ساری دنیا میں مشہور ہے۔ ٹیکسلا اور اس کے میوزیم کو دیکھنے کے بعد ہی سمجھا جا سکتا ہے۔

شیخ نوید اسلم

Advertisements

وادی سوات کے حکمران

سکندرِ اعظم کے حملے کے بعد 304 قبل از مسیح میں جب اس کے مشہور جرنیل سیلوکس نے ہندوستان پر دوبارہ حملہ کیا تو اس نے دریائے سندھ کے اس پار مفتوحہ علاقے جن میں سوات، بونیر وغیرہ کے علاقے بھی شامل تھے، ہندوستان کے راجہ چندر گپت موریہ کے حوالے کر دیئے۔ چندر گپت موریہ نے ان علاقوں کے باشندوں کو پوری مذہبی آزادی دی تھی اور ان پر بے جا پابندیاں عائد کرنا پسند نہیں کیا تھا۔ چندر گپت موریہ نے بدھ مت قبول کر لیا تھا اور اپنے وقت کا مشہور ترین حکمران سمجھا جاتا تھا۔ اس نے بدھ مت کی تبلیغ میں نمایاں حصہ لیا لیکن اس کی زیادہ توجہ ہندوستان کے دوسرے علاقوں کی طرف رہی اور گندھاراکے علاقہ (سوات،باجوڑ،بونیر،مردان، چارسدہ ،ٹیکسلا وغیرہ) میں بدھ مت کی کسی غیر معمولی سرگرمی کا پتہ نہیں چلتا۔

چندر گپت موریہ کے بعد اس کے بیٹے”بندوسرا” نے 297 قبل از مسیح سے 272 قبل از مسیح تک اپنے باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے کامیابی سے حکومت کی۔ اس نے بھی ہندوستان میں بدھ مت کی تبلیغ پر خصوصی توجہ دی اور سندھ پار گندھارا کی طرف کوئی خاص توجہ نہ دی۔ عہدِ اشوک:اس کے بعد چندر گپت موریہ کے پوتے اور تاریخِ ہند کے مشہور ترین حکمران اشوک کی باری آئی۔ اس نے 274 قبل از مسیح میں مسندِ اقتدار پر براجمان ہو کر اپنے آپ کو بدھ مت کی ترقی و تبلیغ کے لئے وقف کر دیا۔ بدھ مت کو ان کے عہدِ حکومت میں بہت عروج حاصل ہوا۔ انہی کے زمانے میں بْدھ مت کو گندھارا میں مقبولیت حاصل ہوئی اور انہی کے دورِ حکومت میں بْدھ مت کو ہندوستان سے نکل کر افغانستان ،سیلون اور دوسرے دور دراز کے ملکوں تک پہنچنے کا موقع ملا تھا۔

اشوک کے دورحکومت میں ملک کے دور دراز علاقوں میں کتبے نصب کئے گئے جن میں علاقہ یوسف زئی کا کتبہ شاہبازگڑھی (مردان) کے مقام پر کافی شہرت رکھتا ہے۔237 قبل از مسیح میں ہندوستان اور سلطنت گندھارا کا یہ مشہور حکمران دنیا سے رخصت ہوا۔

اشوک کے بعد: مہاراجہ اشوک کے بعد بدھ مت کا زوال شروع ہوا۔ ہندوؤں نے پھر سر اْٹھایا۔ یونانی حکمران جو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہو چکے تھے، دوبارہ اپنی حکومت کے قیام کے لئے تگ و دو کرنے لگے۔ اس دوران وسط ایشیا کے قبائل نے اس علاقے کا رْخ کیا تو قبیلہ ساکا اور کشان وغیرہ گندھارا میں دکھائی دینے لگے۔

بدھ مت کے آثارِ قدیمہ اور چینی سیاحوں کی آمد: سوات نے عہدِ قدیم میں اس وقت نمایاں ترقی کی جب یہاں بدھ مت کو عروج حاصل تھا۔ چینی سیاح ہیون سانگ نے اس وقت اس علاقہ کا رقبہ اندازاً 833 میل ظاہرکیا۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ یہ علاقہ اس وقت موجودہ سوات کے علاوہ دریائے سندھ کے مغرب کی طرف کی پہاڑیوں اور درد (انڈس کوہستان) کے علاقوں تک پھیلا ہوا تھا۔ دوسرے چینی سیاح فاہیان کے مطابق اس علاقے میں بدھ مت کے پانچ سو معبد پجاریوں سے بھرے ہوئے نظر آتے ہیں اور پھرجب 630ء میں ہیون سانگ نے بدھ مت کے دور زوال میں اس علاقے کو دیکھا تو اس کی چودہ سو خانقاہیں (جن میں اٹھارہ ہزار بھکشو رہائش پذیر تھے) ویران دکھائی دیتی ہیں۔

بدھ مت کے جس قدر آثار سوات میں ملے ہیں، اتنے آثار پاکستان کے کسی اور علاقہ میں نہیں ملے ہوں گے۔ بدھ مت دور کے بہت سے آثار دریافت کئے گئے ہیں جب کہ ان سے کہیں بڑھ کر زمین کے سینے میں پوشیدہ ہیں۔ 1956ء میں ریاستِ سوات میں اٹلی کے مشہور ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر ٹوچی کی زیر نگرانی ایک پوری جماعت نے سوات کے آثارِ قدیمہ کی کھدائی کی تھی جس میں بہت سے آثار ظاہر ہوئے اور ان سے بے شمار قیمتی نوادرات برآمد ہوئے۔ جن میں کچھ نوادرات تو معاہدہ کے مطابق حکومتِ اٹلی کودے دیئے گئے اور کچھ نوادرات کوسوات میوزیم میں محفوظ کر لیا گیا۔ سوات میں بدھ مت کے مشہور آثار بٹ کڑا، نجی گرام، اوڈی گرام، بری کوٹ اور جہان آباد وغیرہ کے مقامات پر دریافت ہوئے ہیں۔

فضل ربی

سوات میں 2000 سال پرانے یونانی شہر کے آثار دریافت

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات میں ماہرین آثارقدیمہ نے تحصیل بریکوٹ میں بازیرہ کے مقام پر سکندر اعظم کے دو ہزار سال پرانے یونانی شہر کے آثار دریافت کیے ہیں۔ سکندر اعظم کے دور کا بازیرہ سوات کا ایک قدیم قصبہ ہے جو مرکزی شہر مینگورہ سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔  پاکستان میں اطالوی آرکیالوجی مشن کے سربراہ ڈاکٹر لوکا ماریہ کے مطابق دریافت شدہ ہندو یونانی شہر کے آثار کا تعلق دوسری صدی قبل مسیح سے ہے۔ ان کے مطابق آرکیالوجسٹ کی ٹیم پاکستانی اور اطالوی ماہرین پر مشتمل تھی جنھوں نے ہندو یونانی شہر کے آثار کے علاوہ ساتویں اور آٹھویں قبل مسیح کے گندھارا آثار کو بھی دریافت کیا ہے جب کہ تیسری صدی قبل مسیح کی موریا سلطنت کے آثار بھی ملے ہیں۔

 بازیرہ بریکوٹ کا اصل اور پرانہ نام ہے کہا جاتا ہے کہ سکندر اعظم نے 327 قبل مسیح میں اس کو فتح کیا تھا. بازیرہ کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ یہ سکندر اعظم کے شہر سے موسوم ہے جہاں اطالوی آرکیالوجی مشن سنہ 1984 سے کھدائی کر رہا ہے جہاں انھوں نے یونانی، موریا، ہندو یونانی، ہندو شاہی اور اسلامی دور کے آثار دریافت کیے ہیں۔ آرکیالوجسٹ نیاز شاہ نے کو بتایا کہ حالیہ کھدائی تاریخی لحاظ سے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ ان کے مطابق جن دو جہگوں پہ کھدائی ہوئی ہے ان میں ایک کشان دور کی ہے جس میں ایک مندر کے آثار ملے ہے اس میں پانی کی ٹینکی بھی ملی ہے اور اس کا تعلق تیسری صدی عیسوی سے ہے۔

دوسری جگہ پر ہونے والی کھدائی کی اہمیت اس وجہ سے بھی زیادہ ہے کہ اس میں گریک دور کے بعد کے جو لوگ اور ادھر کے جو لوگ تھے وہ آپس مل گھل مل گئے تھے اس سے ہندو گریک وجود میں آیا وہ لوگ اس شہر میں بسے ہے اور ان کا تعلق دوسرے قبل مسیح سے ہے اور اس دور کے کافی واضح اثار ملے ہیں جسمیں برتن کے ٹکڑے ، ہتھیار اور اس دور کے بادشاہوں کے سکے و دیگر سامان ملا ہے. بازیرہ میں یہ کھدائی پوری دنیا میں جنوبی ایشیا میں اور پاکستان میں بریک تھرو ہے. سوات مختلف آثار قدیمہ، گندھارا تہذیب اور مختلف مذاہب کے حوالے سے ہزاروں سال قدیم تاریخ اور آثار رکھتا ہے۔

اس حوالے سے ماہر ثقافت فضل خالق نے بتایا کہ کتابوں میں مذکور ہے کہ سکندر اعظم یہاں آیا تھا لیکن اس حوالے سے ہمارے پاس دستیاب ثبوت کم تھے لیکن اب جو کھدائی ہوئی ہے اور جو چیزیں دریافت ہوئی ہے ان سے ہمارے پاس کافی ثبوت ہے۔  بازیرہ بریکوٹ کا اصل اور پرانہ نام ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سکندر اعظم نے 327 قبل مسیح میں اس کو فتح کیا تھا اور یہ ہندو یونانی دور میں ایک مظبوط فوجی چھاونی کے طور پر بنایا گیا تھا۔ جب اس چھاونی کی حیثیت ختم ہوئی تو یہ ایک بڑے شہر کی حیثیت اختیار کرگیا اسکے علاوہ بریکوٹ میں اور بھی بہت سے مقامات پر اثار قدیمہ دریافت ہوئے ہیں۔

سید انور شاہ

صحافی

Usho Valley Sawat

Usho (also spelled Ushu) is a hill station in the north east of Kalam valley. It is situated at a distance of 8 kilometers (5.0 mi) from Kalam and 123 kilometers (76 mi) km from Saidu Sharif at the height of 2,300 metres (7,550 feet). It is accessible through a non metalled road from Kalam by jeeps only.

 

Madyan

By the time you reach this small town at 1320 m and about 60 km from Mingora, the mountains have closed in and the valley is almost snug. Here one senses why Swat is so popular among the tourists. There are a lot of embroidered shawls in the Bazars of Madyan.At 1,321 metres (4,335 feet) above sea level,but it is a larger town and has many hotels in all price ranges and some good tourist shopping. Antique and modern shawls, traditional embroidery, tribal jewellery, carved wood and antique or reproduced coins are sold along the main street. 

This is the last Swati village, offering interesting two-and three-day walks up to the mountain villages… ask in the bazaar in Muambar Khan’s shop for a guide. North of Madyan is Swat Kohistan where walking is not recommended without an armed guard. The central mosque at Madyan has carved wooden pillars with elegant scroll capitals, and its mud-plastered west wall is covered with relief designs in floral motifs. Both bespeak the Swati’s love of decoration. 

Plains of Sawat

Actually the valley of Swat starts from the foothill of Malakand but we are concerned with portion from Landakay to Gabral (Gulabad), the area within the administrative boundaries of Swat. The length of the valley from Landakay to Gabral is 91 miles. Two narrow strips of plains run along the banks of Swat River from Landakay to Madyan. Beyond Madyan in Kohistan-e-Swat, the plan is too little to be mentioned. So for as the width concerns, it is not similar, it varies from place to place. We can say that the average width is 5 miles.

The widest portion of the valley is between Barikot and khwaza khela. The widest view point and the charming sight where a major portion of the valley is seen is at Gulibagh on main road, which leads to Madyan. There are some subsidiary valleys, which help to increase the width of the main valley. These subsidiary valleys are called “Daras”. A Dara a narrow passage between mountains, and sometimes, the upper course of a river is also called Dara. If we imagine the main valley as a stem of a tree the subsidiary valleys form its branches. Swat River and its tributaries drain Swat. There fore, the whole valley is the outcome of running water.

This flowing water cuts the upper courses deeply, and flows the load of washed away materials. As the gradient is greater in the upper course so the erosion is on large scale, particularly in the summer rains, when all the rivers are in flood. The big boulders and stones are rolled, which causes more destruction in the upper courses. When the loaded water reaches to the areas of low gradient, the heavier materials are deposited. The deposition takes place according to the slope, generally, we observe, that the upper course is made up of big boulders, the middle course is of relatively small stones, pebbles, and debris, while the lower course is made of fine clay. Anyhow, the whole plain of Swat valley is strewn by the running water, and is made up of fine alluvial soil.

Geography of Sawat

The valley of Swat is situated in the north of K.P.K, 35° North Latitude and 72° and 30° East Longitude, and is enclosed by the sky-high mountains. Chitral and Gilgit are situated in the north, Dir in the west, and Mardan in the south, while Indus separates it from Hazara in the east. Physical Features: Swat can be divided into two physical regions:
Mountainous Ranges
As mentioned above, Swat lies in the lap of Mountainous Ranges, which are the offshoots of Hindukush, so the larger part of Swat is covered with high mountains and hills, the crests of which is hidden by everlasting snow. Though these gigantic Ranges run irregularly: some to the west while the others to the east, but the general direction is North-South. These ranges enclose small but very enchanting valleys.
Eastern ranges 
In Kohistan-e-Swat the chief knot of eastern ranges is Mankial. Its northern branches separate Kohistan-e-Swat from Abasin Kohistan. These ranges form a barrier between Gilgit and Swat, and between Chitral and Swat. The southern extension of Mankial ranges reaches proper Swat. There they join Shangla ranges. Shangla ranges separate proper Swat from Shangla Par area (Shangla Par district). In Shangla district, there are Karora Ranges, which separate Puran from Kanra and Ghurband. The continuation of Shangla ranges joins Dwasaray. On the one hand Dwasaray separates lower Swat from Puran, on the other, it set aside the Buner from Puran. Now the general Direction of the ranges turns westward. Here it is called Elum. Elum Ranges is a big wall between the proper Swat and Buner. The Elum ranges at last join mountains of Malakand.
Western ranges 
Western ranges start from the mountain and hills of Gabral, Kohistan-e-Swat. It joins the hills of Kundal (Utror). There these ranges meet Daral Ranges. These ranges form a border with Dir district. They run westward and are named according to the locality. For example, Lalko ranges Manrai and Chaprai etc. at last they join the hills of Adenzee and Shamozee. Manrai ranges send off some offshoots southward. The hills separate Arnoyay valley from the widest valley of Nekpikheil valley.