کنڈول جھیل کے پرمسرت نظارے

downloadیہ کنڈول جھیل ہے وادی سوات اتروڑ میں واقع یہ جھیل گلیشئر سے بنی ہے ۔ جھیل تک پہنچنے کا راستہ انتہائی دشوار گزار ہے ۔ جھیل کے علاوہ وادی کنڈول میں جنگلی پھولوں کی بہار ہے ۔ ایسے پھول جنہیں آپ نے کہیں نہیں دیکھا ہو گا۔ کنڈول جھیل کے بارے میں ایک سیاح لکھتے ہیں ’’پہاڑ عبور کیا تو وادی کنڈول ہمارے ساتھ تھی ۔ سور ج غروب ہونے کے قریب تھا اور ڈوبتے سورج کی سنہری کرنوں سے کنڈول جھیل سیال سونے کی طرح جگمگا رہی تھی ۔ فی الواقع ایک مبہوت کرنے والا منظر ہمارے سامنے تھا ۔

ایسا منظر کہ ہم پر پیچ راستے ، بلندو بالا پہاڑوں کی خوفناک ڈھلانیں ، مشقتوں سے بھرا طویل سفر ، سوجے قدموں کی تکالیف سب بھول گئے ۔ کنڈول کے پرمسرت نظارے نے دلوں کو خوشی اور مسرت سے بھر دیا۔ پہاڑوں کے درمیان دور تک پھیلی ہوئی وسیع و عریض جھیل ، جھیل کے کنارے پر برف کے بڑے بڑے گلیشئر ، جھیل تک پہنچنے والے میدان میں ہر طرف داد دیتے خوبصورت پھول، نیلے نیلے، پیلے پیلے پیراہن ۔ ہمیں جھیل سیف الملوک کے نظارے بھی ہیچ نظر آئے۔ یہاں تک آنے کے پیسے پورے ہوگئے۔

(ہوائوں کے سنگ اور نیٹ سے ماخوذ)

Advertisements

فطرت کا گھر : ناران، کاغان اور جھیل سیف الملوک

113938626_9d80646953وادی ٔ کاغان کی خوبصورتی کو دیکھ کر بے ساختہ یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ پوری وادی فطرت کا گھر ہے ۔ دنیا میں وادی کاغا ن کو پا کستان کی دل کی دھڑکن سمجھا جا تا ہے۔ جنگلا ت اورپرندو ں کی میٹھی بو لیاں سننے کو ملتی ہیں ۔ وادی کا غان میں دنیا کے کو نے کو نے سے سیا ح وادی کی خو بصو رتی کا منظر دیکھنے کو آتے ہیں ۔ وادی کاغان سالہا سال سیّاحوں سے بھری رہتی ہے ۔ وادی کاغان سطح سمندر سے 3 ہزار فٹ سے شرو ع ہو کر 30 ہزار 690 فٹ پر بابو سر پاس پر اختتام پذیر ہو ئی ہے۔ دریا ئے کنہا ر اس وادی کا مرکزی دریا ہے ۔ وادی کا غان شاہراہ قراقرم بننے سے پہلے گلگت اور شما لی علا قہ جا ت سے باقی ملک کے ملاپ کا واحد زمینی زریعہ تھی ۔

اگر آپ کو وادی کاغان کا نظارہ کرنا ہو تو آپ کو سفر کا آغاز ایبٹ آباد سے شروع کرنا ہو گا ۔ ایبٹ آبا د سے ہو تے ہوئے مانسہرہ پہنچتے ہیں ۔ جہاں سے  کاغان روڈ شاہراہ ریشم سے الگ ہو تی ہے۔ یہ شاندار سڑک جابہ پاس کے گھنے   جنگلات سے گزرتی ہے۔ اور دوسری جانب آپ دریا ئے کنہار کا پہلا نظارہ کرتے ہوئے بالا کوٹ پہنچتے ہیں۔ جو وادی کا پہلا بڑا شہر ہے۔ اسے وادی کاغان کا دروازہ بھی کہتے ہیں۔ بالا کوٹ کو اس وجہ سے بھی اہمیت حاصل ہے۔ بالا کوٹ سے آگے سڑک یک دم اوپر کو اٹھتی ہے۔ اور کچھ ہی دیر میں آپ کو بلندی پر لے جاتی ہے۔ اور دریا ئے کنہا ر نیچے گہرائی میں ایک ندی کی ماند دکھائی دیتا ہے۔ بالا کوٹ سے 24 کلو میٹر فاصلے پر کیوائی کا ایک قصبہ آتا ہے۔ کیوائی سے 8 کلو میٹر آگے شوگراں کا ایک خوبصورت مقام آتا ہے۔ سطح سمندر سے 7750 فٹ بلند یہ مقام پہا ڑو ں میں گھرا ہوا ہے۔

وادی کاغان روڈ سے کیوائی سے 6 کلو میٹر کے فاصلے پر پارس کا قصبہ آتا ہے۔ یہاں پر لو گ چائے اور پا نی کا وقفہ کرتے ہیں۔ پارس سے ایک جیپ روڈ دریا پر بل کھاتی ہوئی 16 کلو میٹر دور اور 7872 فٹ کی بلندی پر واقع شاران کے مقام تک جاتی ہے۔ انتہائی گھنے جنگل میں واقع یہ پرسکون اور غیر آباد مقام اپنے اندر ایک کشش رکھتا ہے۔ اگر تنہائی کی خوبصورتی کو قریب سے دیکھنا ہو تو شاران موزوں جگہ ہے۔ شاران مشہو ر پہا ڑ موسیٰ کا مصلیٰ (13,378) فٹ کے دامن میں واقع ہے ۔ اس علا قے میں حیات کی کثرت ہے۔ انواع و اقسام کے پرندوں کے علا وہ چیتا اور ریچھ بھی پا یا جاتا ہے ۔ وادی کا غان رو ڈ پر پارس سے چند کلو میٹر آگے شینو کا قصبہ آتا ہے۔

کھنسیا ں سے مزید 5 کلو میٹر آگے وادی کا غان کا قصبہ آتا ہے اور وادی کا نام بھی اسی قصبہ کی طرز پر رکھا گیا ہے۔ وادی کا غان کے اطراف میں چند ایک دلکش اور خوبصورت مقامات پا ئے جا تے ہیں۔ جن میں شنگڑی قابل ذکر ہے۔ وادی کا غان سے مشق کی سمت میں ایک جیپ ٹریک مکھلا عیا ں خوبصورت گائو ں سے ہو تا ہوا 12700 فٹ بلند مقا م شنگڑی تک پہنچتا ہے۔ یہا ں سے چاروں اطرا ف میں وادی کے دلکش طائرانہ منا ظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔    گرمیو ں میں یہ مقام پھولو ں سے بھر جاتا ہے۔ اور یہ کیمپنگ کے لیے آئیڈل ترین جگہ ہے۔ وادی کاغان سے آگے سڑک خوبصورت نظاروں سے گزرتی ہوئی 24 کلو میٹر دور وادی کے مرکز ناران میں پہنچتی ہے ناران سیا حو ں کا مرکز ہے۔

اور یہاں پر وادی ہموار اور نسبتاً وسیع میدا ن شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ناران میں قیا م و طعام کی جدید ترین سہو لتیں حاصل ہو تی ہیں اور مرکزی بازار میں ضرورت کی تما م اشیا ء آرام سے دستیا ب ہو جاتی ہیں۔ ناران پہنچنے والا ہر   سیاح وادی کاغان کی سب سے مقبو ل ترین تفریح گاہ جھیل سیف الملوک پہنچنے کیلئے بے قرار نظر آتا ہے۔ نا ران سے صرف 8 کلو میٹر دور اور سطح سمند ر سے 10550 فٹ بلند یہ حسین ترین جھیل افسانوی شہرت کی حامل ہے ۔ چاروں طرف سے برفیلے پہاڑ وں میں گھری اس پیالہ نما جھیل کے متعلق رومانوی دستانیں بہت مشہور ہیں۔ اس جھیل کے پانیو ں میں ملکہ پربت کا حسین اور خوبصورت ترین منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔

زوہا بخاری