ٹراؤٹ : سوات کی مشہور سوغات

Boi7tpKIQAAwBtTجس طرح ہر علاقہ اپنی کسی مخصوص سوغات کی وجہ سے جانا جاتا ہے اسی طرح سوات بھی ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش اور خوراک کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے۔ سوات میں پہلی ٹراؤٹ فش ہیچری 1950 میں قائم ہوئی تھی جبکہ سب سے بڑا ایکوا کلچر (آبی کلچر) بھی سوات کے علاقے مدین میں ہے۔ 1988 سے اس کاروبار سے منسلک محمد سعید نے بی بی سی کو بتایا کہ سوات میں تین قسم کی ٹراؤٹ مچھلیوں کی افزائش ہوتی ہے جن میں کیم لوپ، رین مبو اور براؤن شامل ہیں، جن کی قیمت بالترتیب سات سو، نو سو اور 12 سو روپے فی کلو ہے۔

تاہم اس کاروبار کو سیلاب سے خطرہ لاحق ہے اور پچھلے سال تین فش فارمز مکمل طور پر تباہ ہو گئے تھے جس کی وجہ سے انھیں ایک کروڑ روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔DSCF9381

سوات میں محکمہ فشریز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ابرار احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ خیبر پختونخوا میں سوات ٹراؤٹ کی پیداوار میں پہلے نمبر ہے جہاں اس کی پیداوار پانچ سے چھ ٹن ہے، تاہم سوات میں دہشت گردی اور سیلاب کے باعث اس شعبے کو بہت نقصان ہوا تھا اور ٹراوٹ فش فارمز تقریبا ختم ہوگئے تھے۔ تاہم اب حکومت اور مختلف غیر سرکاری تنظیموں کی مدد سے یہ بحال ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق سوات میں مچھلیوں کی 22 سے 25 اقسام پائی جاتی ہیں۔ سوات کی ٹراؤٹ مچھلی یہاں آنے والے سیاحوں کی پسندیدہ خوراک ہے۔ فش فارم پر بحرین سے آنے والے محمد سید نے بتایا کہ کہ اسلام آباد سے ان کے دوست آئے ہیں جن کے لیے وہ ٹراؤٹ مچھلی خریدنے آئے ہیں کیونکہ یہ ان کے مہمانوں کی فرمائش ہے کہ انھیں ٹراؤٹ مچلی ہی کھلائی جائی۔

ان کے مطابق ان کے بہت سے دوست فیملیز کے ہمراہ سیر کے لیے آتے ہیں اور ٹراوٹ فش ان کی خوراک کی فہرست کا لازمی حصہ ہوتی ہے۔ سوات کے تقریباً تمام ہوٹلوں میں ٹراؤٹ مچھلی دستیاب ہوتی ہے، تاہم فرائی مچھلی کی قیمت 15 سو روپے فی کلو تک ہوتی ہیں جسے سیاحوں کے علاوہ مقامی لوگ بھی بڑے شو سے کھاتے ہیں۔ ایک ہوٹل کے مالک قیوم جان نے بتایا کہ ٹراوٹ فش سوات کی مشہور خوراک ہے اور دن 11 بجے سے لے کر رات دیر تک مقامی اور غیر مقامی لوگوں کی بڑی تعداد ان کے ہوٹلوں پر آتی ہے۔ گرمیوں اور سردیوں دونوں موسموں میں ٹراؤٹ کا کاروبار عروج پر ہوتا ہے مدین میں قائم ایک فارم کے مالک نے بتایا کہ گرمیوں میں اوسطا ماہانہ چھ سو سے ایک ہزار کلو تک فروخت ہوتی ہیں جبکہ سردیوں میں اسلام آباد اور دیگر شہروں کے بیوپاری تھوک کے حساب سے خریداری کرتے ہیں جس سے سیل بہت بڑھ جاتی ہے۔

انور شاہ

صحافی، سوات

 

Advertisements