مالم جبہ میں چیئر لفٹ کی بحالی

 

Advertisements

Chair Lift Ride at Malam Jabba, Swat, Pakistan

Tourists from across the country are enjoying a ride on the chairlift, installed after eight years of long wait at the 9,200-feet high Malam Jabba tourist resort. The previously installed chairlift constructed with the financial assistance of the Austrian government was destroyed during insurgency in 2008. However, in 2014, the Khyber Pakhtunkhwa government announced to reconstruct the Malam Jabba ski resort featuring a four-star hotel, a chairlift, a cable car, snowboarding and ski slopes for national and international tourists. This season, the cable car started operations to transport tourists to the peak of Malam Jabba offering panoramic view.
Abdul Samad Khan, a tourist from Shangla, said he frequently visited Malam Jabba, but was astonished to see the addition of chairlift and some other development works. “With the newly built facilities for tourists Malam Jabba has become the most attractive part in Pakistan,” he said. “Though the road from Mingora to Malam Jabba is only 45 kilometers long it took us three hours to reach here because of its bad condition. If the government reconstructs the road more tourists will come,” said Samad Khan.

سوات میں 2000 سال پرانے یونانی شہر کے آثار دریافت

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات میں ماہرین آثارقدیمہ نے تحصیل بریکوٹ میں بازیرہ کے مقام پر سکندر اعظم کے دو ہزار سال پرانے یونانی شہر کے آثار دریافت کیے ہیں۔ سکندر اعظم کے دور کا بازیرہ سوات کا ایک قدیم قصبہ ہے جو مرکزی شہر مینگورہ سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔  پاکستان میں اطالوی آرکیالوجی مشن کے سربراہ ڈاکٹر لوکا ماریہ کے مطابق دریافت شدہ ہندو یونانی شہر کے آثار کا تعلق دوسری صدی قبل مسیح سے ہے۔ ان کے مطابق آرکیالوجسٹ کی ٹیم پاکستانی اور اطالوی ماہرین پر مشتمل تھی جنھوں نے ہندو یونانی شہر کے آثار کے علاوہ ساتویں اور آٹھویں قبل مسیح کے گندھارا آثار کو بھی دریافت کیا ہے جب کہ تیسری صدی قبل مسیح کی موریا سلطنت کے آثار بھی ملے ہیں۔

 بازیرہ بریکوٹ کا اصل اور پرانہ نام ہے کہا جاتا ہے کہ سکندر اعظم نے 327 قبل مسیح میں اس کو فتح کیا تھا. بازیرہ کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ یہ سکندر اعظم کے شہر سے موسوم ہے جہاں اطالوی آرکیالوجی مشن سنہ 1984 سے کھدائی کر رہا ہے جہاں انھوں نے یونانی، موریا، ہندو یونانی، ہندو شاہی اور اسلامی دور کے آثار دریافت کیے ہیں۔ آرکیالوجسٹ نیاز شاہ نے کو بتایا کہ حالیہ کھدائی تاریخی لحاظ سے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ ان کے مطابق جن دو جہگوں پہ کھدائی ہوئی ہے ان میں ایک کشان دور کی ہے جس میں ایک مندر کے آثار ملے ہے اس میں پانی کی ٹینکی بھی ملی ہے اور اس کا تعلق تیسری صدی عیسوی سے ہے۔

دوسری جگہ پر ہونے والی کھدائی کی اہمیت اس وجہ سے بھی زیادہ ہے کہ اس میں گریک دور کے بعد کے جو لوگ اور ادھر کے جو لوگ تھے وہ آپس مل گھل مل گئے تھے اس سے ہندو گریک وجود میں آیا وہ لوگ اس شہر میں بسے ہے اور ان کا تعلق دوسرے قبل مسیح سے ہے اور اس دور کے کافی واضح اثار ملے ہیں جسمیں برتن کے ٹکڑے ، ہتھیار اور اس دور کے بادشاہوں کے سکے و دیگر سامان ملا ہے. بازیرہ میں یہ کھدائی پوری دنیا میں جنوبی ایشیا میں اور پاکستان میں بریک تھرو ہے. سوات مختلف آثار قدیمہ، گندھارا تہذیب اور مختلف مذاہب کے حوالے سے ہزاروں سال قدیم تاریخ اور آثار رکھتا ہے۔

اس حوالے سے ماہر ثقافت فضل خالق نے بتایا کہ کتابوں میں مذکور ہے کہ سکندر اعظم یہاں آیا تھا لیکن اس حوالے سے ہمارے پاس دستیاب ثبوت کم تھے لیکن اب جو کھدائی ہوئی ہے اور جو چیزیں دریافت ہوئی ہے ان سے ہمارے پاس کافی ثبوت ہے۔  بازیرہ بریکوٹ کا اصل اور پرانہ نام ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سکندر اعظم نے 327 قبل مسیح میں اس کو فتح کیا تھا اور یہ ہندو یونانی دور میں ایک مظبوط فوجی چھاونی کے طور پر بنایا گیا تھا۔ جب اس چھاونی کی حیثیت ختم ہوئی تو یہ ایک بڑے شہر کی حیثیت اختیار کرگیا اسکے علاوہ بریکوٹ میں اور بھی بہت سے مقامات پر اثار قدیمہ دریافت ہوئے ہیں۔

سید انور شاہ

صحافی

چترال : پیرا گلائیڈنگ کی جنت

kahtours-Shandur-Polo-Festival

 خیبر پختونخوا کا دور افتادہ پہاڑی ضلع چترال پیراگلائیڈنگ کے لیے ملک کا سب سے موزوں علاقہ سمجھا جاتا ہے.

Chitral-Kalash_Karavan-Leaders-6

 چترال میں ہر سال کئی مقامی تہواروں کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں غیر ملکی سیاح خصوصی طور پر دلچپسی ظاہر کرتے رہے ہیں.

 چترال میں پیراگلائیڈنگ کے کھیل کے فروغ کے لیے ہندوکش ایسوسی ایشن فار پیراگلائیڈنگ کے نام سے ایک کلب بھی قائم کیا گیا ہے.

 پیراگلائیڈنگ غیر ملکی سیاحوں کا ہمیشہ سے ایک مقبول کھیل رہا ہے.

 .غیر ملکی سیاح چترال کو پیراگلائیڈنگ کی جنت بھی کہتے ہیں

 اس کھیل میں عام طور پر پہاڑ کی چھوٹی یا بلند مقام سے ایک بڑے پیراشوٹ کے ذریعے سے پرواز کی جاتی ہے.

اس کلب کے صدر شہزادہ فرہاد عزیز کا کہنا ہے کہ پہلے چترال میں غیر ملکی پائلٹ پہاڑی کی چوٹیوں سے پرواز کرنے کے لیے بڑی تعداد میں آیا کرتے تھے، جس کے نتیجے میں کچھ مقامی لوگوں میں بھی شوق پیدا ہوا