سوات میں سید اکبر شاہ کی حکومت

سوات صدیوں سے قبائلی دور سے گزر رہا تھا کہ 1850ء میں اخون صاحبِ سوات (سیدو بابا) نے سوات اور بونیر کے باشندوں کے مشورے سے ستھانہ کے رئیس سید اکبر شاہ کو سوات کا بادشاہ منتخب کیا۔ جدید سوات کی پہلی شرعی حکومت کا دارالخلافہ موضع غالیگی قرار پایا۔ شریعت اسلامیہ کے نام سے حکومت نے کام شروع کیا۔ اس دوران ہندوستان کی جنگِ آزادی 1857ء کا آغاز ہوا۔ اس وقت جب کہ مذکورہ جنگ کی خبریں سرزمینِ سرحد میں پہنچنے لگی تھیں، 11 مئی 1857ء کو سید اکبر شاہ وفات پا گئے۔ان کے انتقال سے اس اولین حکومت کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ انگریزوں کو، اس حکومت سے جو خطرہ پیدا ہو رہا تھا، اس کا اندازہ سر ہربرٹ ایڈورڈ کے ان الفاظ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ ’’ اگر سوات میں شرعی حکومت اور جنگجو قبائل کا سربراہ سید اکبر شاہ زندہ ہوتا تو 1857ء کی جنگ کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔‘‘

فضل ربی

Advertisements

سوات اور ٹیکسلا میوزیم : بدھ دور کے آثار کی ایک قابل قدر یادگار

سوات میوزیم

وادیٔ سوات اپنے سحر انگیز مناظر فطرت کے ساتھ بدھ دور کے آثار قدیمہ میں عالمی شہرت کا مالک ہے۔ وادی بدھ اسٹوپا کی کثرت اور بدھ دور کے آثار کی کھدائیوں سے نمایاں ہوئی ہے۔ اس کو پاکستان بننے کے بعد سابق والیٔ سوات میاں گل جہاں زیب نے اپنے دور میں سیدو شریف میں ایک میوزیم بنا کر مزید شہرت دی ہے۔ یہ ’’سوات میوزیم‘‘ بھی بدھ دور کے آثار کی ایک قابل قدر یادگار ہے اور بہت سی کھدائیوں سے جو قدیم اشیا نکلی ہیں یا نکل رہی ہیں ان کے لیے ایک خوبصورت عمارت تعمیر کی گئی ہے۔

ٹیکسلا میوزیم

 یہ راولپنڈی کے شما ل میں 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ بدھ تہذیب کا مقدس مقام گندھارا کی مجسمہ سازی کا گہوارہ اور تعلیم و تہذیب کا مرکز رہا ہے۔ ٹیکسلا میں گوتم بدھ کا ایک قد آور مجسمہ ہے جس کی آنکھیں دیکھنے والوں کو حیران کن حد تک مسحور کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ مقدونیہ کے سکندر اعظم کے مجسمے بھی یہاں پائے جاتے ہیں۔ ٹیکسلا کا میوزیم ایک بھرپور مکمل عجائب گھر ہے۔ قدآور اور مختلف سائز کے مجسموں اور تمدنی زندگی کے مختلف مشاہیر کے نمونے، حیرت انگیز فنی کمالات سے ساختہ سونے کے زیورات، گھریلو سامان اور یونانی اور بدھ دور کے مختلف عجائبات بڑی محنت سے یہاں جمع کیے گئے ہیں۔ یہ عجائب گھر ساری دنیا میں مشہور ہے۔ ٹیکسلا اور اس کے میوزیم کو دیکھنے کے بعد ہی سمجھا جا سکتا ہے۔

شیخ نوید اسلم

وادیٔ کاغان… قدرتی نظاروں کی وجہ سے اپنی مثال آپ

وادیٔ کاغان، جو تقریباً 160 کلومیٹر لمبے رقبے پر پھیلی ہوئی وادی ہے، اپنی بے پناہ کشش اور قدرتی نظاروں کی وجہ سے اپنی مثال آپ ہے۔ گھنے جنگلات ہونے سے پہاڑوں کی ہریالی ہر طرف نظر آتی ہے جو ہمالیہ سلسلہ کے ساتھ ساتھ پھیلے ہوئے ہیں۔ بابوسر جو کہ وادی کاغان میں بلندی پر واقع ہے صرف یہی ایک راستہ تھا جس سے بقیہ شمالی علاقے پاکستان کے ساتھ منسلک تھے جس کا استعمال قراقرم ہائی وے بننے کے بعد بند ہو گیا۔ وادی کاغان پاکستان کا سب سے زیادہ تفریحی مقام پسند کیا جاتا ہے اور زائرین چھٹیاں گزارنے کے لیے اس جگہ کا رخ کرتے ہیں۔

یہاں ٹریکنگ راستے بہت سے ہیں۔ اس کے علاوہ سیر کرنے کے لیے راستے بنے ہوئے ہیں جہاں بآسانی چلا جا سکتا ہے۔ پھولوں سے لدی پہاڑیاں اور جھیلیں شائقین کے لیے خاص توجہ کا مرکز ہیں۔ کاغان کی زیادہ توجہ کا مرکز (ناران) کا مقام ہے۔ ناران کا شہر دریائے کنہار کے ساتھ آباد ہے اور سطح سمندر سے 2495 میٹر بلند ہے۔ یہاں سے وادی کاغان کی چوڑائی زیادہ نظر آتی ہے۔ یہاں پر دریا خاموش نظارہ دیتا ہے اور کافی چوڑا بھی ہے۔ ناران شہر سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر جھیل سیف الملوک 3500 میٹر بلندی پر واقع ہے۔ یہ بھی خوب نظارہ دیتی ہے۔ ایک قصہ جو ایک شہزادے کے بارے میں بہت زیادہ مشہور ہے جس کا نام سیف الملوک تھا اور جھیل کی پری کی محبت کا شکار ہو گیا تھا۔ یہ جھیل اس شہزادے کے نام سے مشہور ہے۔

شیخ نوید اسلم

چلّاس : قدرتی ںظاروں کی جنت

چلّاس ضلع دیامیر کا ہیڈ کوارٹر اور کافی بڑا شہر ہے۔ چلّاس سے رائے کوٹ پل تک پچپن کلومیٹر کا فاصلہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو ہے۔ فیری میڈوز جانے کے لئے جیپیں رائے کوٹ پل سے ملتی ہیں۔ رائے کوٹ پل پر قیام و طعام کی سہولتوں کے بارے میں ہم مکمل طور پرلا علم تھے۔ طاہر کا خیال تھا کہ ہمیں رائے کوٹ پل پر ہی اترنا چاہئے کیونکہ ہمارے ٹکٹ وہاں تک کے ہیں۔ قیام کے لئے کوئی نہ کوئی ہوٹل تو ہو گا ہی اور کھانا بھی برا بھلا جیسا ہوا، مل ہی جائے گا۔ فائدہ یہ ہو گا کہ صبح فوراً ہی جیپوں پر سوار ہو کر فیر ی میڈوز کے لئے روانہ ہو جائیں گے۔

میرا اور چوہدری رشید کا خیال تھا کہ ہمیں چلّاس میں رکنا چاہئے کیونکہ 30 گھنٹے کے مسلسل سفر کے بعد ہمیں آرام دہ کمروں اور خوش ذائقہ خوراک کی اشد ضرورت تھی۔ ابھی تک چلّاس یا رائے کوٹ کے بارے میں ہی فیصلہ نہیں ہوا تھا کہ یہ نیا شگوفہ سامنے آ گیا۔ جگلوٹ رائے کوٹ پل سے بھی آگے تقریباً 45 منٹ کے فاصلے پر تھا۔ ’’یہ جگلوٹ کہاں سے آ گیا۔ ‘‘ میں نے حیران ہو کر پوچھا۔ ’’ہمارے ٹکٹ تو رائے کوٹ پل تک کے ہیں۔ ‘‘ ’’آپ جگلوٹ کے لئے اور ٹکٹ بنواؤ۔ ‘‘ مقامی شخص نے مشورہ دیا۔ ’’لیکن کیوں بنوائیں ! کیا جگلوٹ چلّاس سے بڑا شہر ہے ؟‘‘ ’’ناں جی ناں۔۔۔۔ بڑا تونئیں اے۔ ‘‘ ’’وہاں چلّاس کی نسبت بہتر ہوٹل ہیں ؟‘‘ ’’ناں جی ناں۔۔۔ اوٹل تو چلّاس کا زیادہ اچّا اے ‘‘ ’’پھر ہم جگلوٹ کیوں جائیں ؟‘‘ میں نے زچ ہو کر پوچھا۔ ’’جگلوٹ اور رائے کوٹ بالکل پاس پاس اے۔ ‘‘ ’’اگرصرف نزدیک ہونا ہی اتنی بڑی خوبی ہے تو پھر ہم رائے کوٹ پل پر ہی کیوں نہ اتریں ؟‘‘

وہ شخص کچھ نہ بولا۔ ’’میرا اندازہ ہے ہم آٹھ نو بجے کے درمیان چلّاس پہنچ جائیں گے … اور آپ کی تجویز پر عمل کر کے ہم رات کے گیارہ یا شاید بارہ بجے جگلوٹ پہنچیں گے۔۔۔ پھر ہوٹل تلاش کرنے۔۔۔ اور کھانا کھانے کے لئے کم از کم دو گھنٹے مزید درکار ہوں گے … اور سوتے سوتے ہمیں۔۔۔ ‘‘ ’’ ناں جی ناں۔۔۔۔ اوٹل آپ نئیں ام تلاش کرے گا … اور تلاش کیوں کرے گا؟۔۔۔ اُدر پر امارے کزن کا اوٹل ہے آپ اْدر چلو۔۔۔۔ اور آپ اْدر کیوں چلو؟۔۔۔۔ ام آپ کو لے جائے گا۔ ‘‘ ’’اوہ ویری گڈ۔ ‘‘ میں نے سمجھتے ہوئے کہا ’’اور وہاں ہمیں رات کے پچھلے پہر کھانا مل جائے گا؟‘‘

’’آپ بولو گے تو کیوں نئیں ملے گا؟۔ ‘‘ ’’تقریباً ایک ڈیڑھ بجے بھی کھانا ملا تو سوتے سوتے ہمیں دو اڑھائی بج جائیں گے اور ہم صبح پانچ چھ بجے اْٹھ کر رائے کوٹ پل کے لئے سفر شروع کریں گے۔۔۔۔۔ ٹھیک؟‘‘ ’’ ٹیک ہو گا نا ں ! رائے کوٹ اور جگلوٹ بالکل پاس پاس تو اے۔ ‘‘ ’’اس سے بہتر یہ نہیں کہ ہم تقریباً آٹھ بجے چلّاس اتر جائیں۔ اور آٹھ دس گھنٹے کی پرسکون نیند لے کر صبح چلّاس سے رائے کوٹ پل چلے جائیں ؟‘‘ وہ شخص محض کاندھے اچکا کر رہ گیا۔ طاہر بھی اصل بات سمجھ چکا تھا۔ وہ شخص ہمیں صرف اس لئے جگلوٹ کا راستہ دکھا رہا تھا کہ اپنے کزن کے ہوٹل کے لئے گاہک کا بندوبست کر دے اور اسے تھوڑا بہت کمیشن مل جائے۔

اسی دوران ایک اور مقامی شخص جو ہماری گفتگو سن کر قریب آ گیا تھا پہلے والے شخص پر خفا ہونے لگا کہ وہ ہمیں غلط گائیڈ کیوں کر رہا ہے۔ اس نے ہمیں چلّاس میں قیام کرنے کا مشورہ دیا۔ چلّاس میں ہر قسم کی سہولت موجود ہے اور ہوٹل اور کھانا دونوں کا معیار کافی اچھا ہے۔ اس طرح ہم نے چلّاس میں قیام کرنے کا فیصلہ کیا۔ تلاشی کا کام مکمل ہوا تو بس روانہ ہوئی اور تقریباً فوراً ہی ہم نے دریائے سندھ پر چینی دوستوں کا بنایا ہوا پل دیکھا جو وادیٔ تنگیر کو شاہراہِ قراقرم سے ملاتا ہے۔ آٹھ بجکر دس منٹ پر ہم چلّاس کے بس سٹاپ پر اترے تو انتہائی گرم ہوا کے تھپڑوں نے ہمارا استقبال کیا۔ رات کو بھی اتنی تیز اور گرم ہوا نے ہمیں پریشان کر دیا، اتنی گرمی تو وہاڑی میں بھی نہیں تھی۔ چلاس دراصل مون سون ہواؤں کی زد میں نہیں آتا اس لئے یہاں بارش بہت کم ہوتی ہے اور یہاں کی گرمی بھی ملتان کی گرمی کی طرح مشہور ہے۔

ڈاکٹر محمد اقبال ہما

سوات کے پہاڑ

سوات میں پہاڑوں کے مختلف نام ہیں جن میں سے ایک ’’گنہگار‘‘ ہے یہ پہاڑ ضلع سوات اور دیر کے درمیان سطح سمندر سے 15 ہزارفٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اس پہاڑ کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہاں سبز، سرخ ، سفید اور دیگر کئی رنگوں کی برف نظر آتی ہے جو سیاحوں کے لئے یقینا باعث حیرت اور دلچسپی ہے۔ اگرچہ عام طور پر برف سپید رنگ کی ہوتی ہے لیکن یہاں چوں کہ ہمیشہ برف جمی رہتی ہے اور بہت کم پگھلتی ہے، اس لئے اس کا رنگ بدلتا رہتا ہے۔ یہ دل کش پہاڑ سارا سال برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ کے بارے میں مشہور ہے کہ قدیم زمانے میں اس سے ایک بزرگ نے پتھر مانگے تھے تا کہ وہ اسے تعمیراتی کام میں استعمال کر سکے لیکن اس پہاڑ نے دینے سے انکار کیا تھا جس کی پاداش میں بزرگ نے اسے بد دعا دی اور اس وجہ سے یہ پہاڑ ہمیشہ برف کی سپید چادر اوڑھے رہتا ہے۔

ایلم : یہ پہاڑ سطح سمندر سے 9250 فٹ بلند ہے۔ جو بونیر اور سوات کے درمیان حد فاصل کا کام دیتا ہے۔ سوات میں سب سے زیادہ سرسبز یہی پہاڑ ہے۔ رام تخت اس پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے جو ہندوؤں کی ایک عبادت گاہ (تیرتھ) ہے۔ جس کی زیارت کے لئے متحدہ ہندوستان کے دور دراز علاقوں سے ہندو یاتری آیا کرتے تھے۔

دوہ سرے: یہ پہاڑ سطح سمندر سے10 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہ پہاڑ بھی ایلم کی طرح زرخیز ہے جو ’’ایلم‘‘ سے ملحق سوات اور بونیر کے درمیان واقع ہے۔ دوہ سری بانڈہ اس پہاڑ کا درہ ہے۔ جس پر مخوزی اور سوات کے لوگ آتے جاتے ہیں۔

فلک سیر: فلک سیر سوات کے شمالی پہاڑوں کے سلسلے کالام میں واقع ہے۔ اس کی بلندی قریباً 20 ہزار فٹ ہے۔ اس کا قدیم نام پالا سر بتایا جاتا ہے۔

مانکیال (مانڑکیال): سوات کوہستان میں یہ ایک مشہور پہاڑ ہے۔ جو وادیٔ بحرین میں واقع ہے۔ یہ پہاڑ سطح سمندر سے 18750 فٹ بلند ہے۔ قدرتی مناظر اور خوب صورتی کے لحاظ سے یہ سوات کا حسین ترین پہاڑ ہے۔ یہاں مرغ زریں کے علاوہ دوسرے پہاڑی مرغ بھی پائے جاتے ہیں جو حسن اور دل کشی میں لاثانی ہیں۔ اس کی چوٹی ہمیشہ برف کی سپید چادر سے ڈھکی رہتی ہے۔

وادی سوات کے حکمران

سکندرِ اعظم کے حملے کے بعد 304 قبل از مسیح میں جب اس کے مشہور جرنیل سیلوکس نے ہندوستان پر دوبارہ حملہ کیا تو اس نے دریائے سندھ کے اس پار مفتوحہ علاقے جن میں سوات، بونیر وغیرہ کے علاقے بھی شامل تھے، ہندوستان کے راجہ چندر گپت موریہ کے حوالے کر دیئے۔ چندر گپت موریہ نے ان علاقوں کے باشندوں کو پوری مذہبی آزادی دی تھی اور ان پر بے جا پابندیاں عائد کرنا پسند نہیں کیا تھا۔ چندر گپت موریہ نے بدھ مت قبول کر لیا تھا اور اپنے وقت کا مشہور ترین حکمران سمجھا جاتا تھا۔ اس نے بدھ مت کی تبلیغ میں نمایاں حصہ لیا لیکن اس کی زیادہ توجہ ہندوستان کے دوسرے علاقوں کی طرف رہی اور گندھاراکے علاقہ (سوات،باجوڑ،بونیر،مردان، چارسدہ ،ٹیکسلا وغیرہ) میں بدھ مت کی کسی غیر معمولی سرگرمی کا پتہ نہیں چلتا۔

چندر گپت موریہ کے بعد اس کے بیٹے”بندوسرا” نے 297 قبل از مسیح سے 272 قبل از مسیح تک اپنے باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے کامیابی سے حکومت کی۔ اس نے بھی ہندوستان میں بدھ مت کی تبلیغ پر خصوصی توجہ دی اور سندھ پار گندھارا کی طرف کوئی خاص توجہ نہ دی۔ عہدِ اشوک:اس کے بعد چندر گپت موریہ کے پوتے اور تاریخِ ہند کے مشہور ترین حکمران اشوک کی باری آئی۔ اس نے 274 قبل از مسیح میں مسندِ اقتدار پر براجمان ہو کر اپنے آپ کو بدھ مت کی ترقی و تبلیغ کے لئے وقف کر دیا۔ بدھ مت کو ان کے عہدِ حکومت میں بہت عروج حاصل ہوا۔ انہی کے زمانے میں بْدھ مت کو گندھارا میں مقبولیت حاصل ہوئی اور انہی کے دورِ حکومت میں بْدھ مت کو ہندوستان سے نکل کر افغانستان ،سیلون اور دوسرے دور دراز کے ملکوں تک پہنچنے کا موقع ملا تھا۔

اشوک کے دورحکومت میں ملک کے دور دراز علاقوں میں کتبے نصب کئے گئے جن میں علاقہ یوسف زئی کا کتبہ شاہبازگڑھی (مردان) کے مقام پر کافی شہرت رکھتا ہے۔237 قبل از مسیح میں ہندوستان اور سلطنت گندھارا کا یہ مشہور حکمران دنیا سے رخصت ہوا۔

اشوک کے بعد: مہاراجہ اشوک کے بعد بدھ مت کا زوال شروع ہوا۔ ہندوؤں نے پھر سر اْٹھایا۔ یونانی حکمران جو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہو چکے تھے، دوبارہ اپنی حکومت کے قیام کے لئے تگ و دو کرنے لگے۔ اس دوران وسط ایشیا کے قبائل نے اس علاقے کا رْخ کیا تو قبیلہ ساکا اور کشان وغیرہ گندھارا میں دکھائی دینے لگے۔

بدھ مت کے آثارِ قدیمہ اور چینی سیاحوں کی آمد: سوات نے عہدِ قدیم میں اس وقت نمایاں ترقی کی جب یہاں بدھ مت کو عروج حاصل تھا۔ چینی سیاح ہیون سانگ نے اس وقت اس علاقہ کا رقبہ اندازاً 833 میل ظاہرکیا۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ یہ علاقہ اس وقت موجودہ سوات کے علاوہ دریائے سندھ کے مغرب کی طرف کی پہاڑیوں اور درد (انڈس کوہستان) کے علاقوں تک پھیلا ہوا تھا۔ دوسرے چینی سیاح فاہیان کے مطابق اس علاقے میں بدھ مت کے پانچ سو معبد پجاریوں سے بھرے ہوئے نظر آتے ہیں اور پھرجب 630ء میں ہیون سانگ نے بدھ مت کے دور زوال میں اس علاقے کو دیکھا تو اس کی چودہ سو خانقاہیں (جن میں اٹھارہ ہزار بھکشو رہائش پذیر تھے) ویران دکھائی دیتی ہیں۔

بدھ مت کے جس قدر آثار سوات میں ملے ہیں، اتنے آثار پاکستان کے کسی اور علاقہ میں نہیں ملے ہوں گے۔ بدھ مت دور کے بہت سے آثار دریافت کئے گئے ہیں جب کہ ان سے کہیں بڑھ کر زمین کے سینے میں پوشیدہ ہیں۔ 1956ء میں ریاستِ سوات میں اٹلی کے مشہور ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر ٹوچی کی زیر نگرانی ایک پوری جماعت نے سوات کے آثارِ قدیمہ کی کھدائی کی تھی جس میں بہت سے آثار ظاہر ہوئے اور ان سے بے شمار قیمتی نوادرات برآمد ہوئے۔ جن میں کچھ نوادرات تو معاہدہ کے مطابق حکومتِ اٹلی کودے دیئے گئے اور کچھ نوادرات کوسوات میوزیم میں محفوظ کر لیا گیا۔ سوات میں بدھ مت کے مشہور آثار بٹ کڑا، نجی گرام، اوڈی گرام، بری کوٹ اور جہان آباد وغیرہ کے مقامات پر دریافت ہوئے ہیں۔

فضل ربی

فلک بوس چوٹیوں کے دامن میں واقع مدین کی وادی

حسین سبزہ زاروں ، گھنے جنگلات اور برف کی سپید فرغل پہنی ہوئی فلک بوس چوٹیوں کے دامن میں واقع مدین کی وادی، سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے 52 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ پختہ سڑک کے ذریعے مینگورہ سے منسلک ہے اور سطح سمندر سے اس کی بلندی 4334 فٹ ہے۔ مدین سوات کی حسین ترین وادیوں میں سے ایک ہے۔ جہاں ہر طرف رنگینی، دل کشی، رعنائی اور حسن کا راج ہے۔ دریائے سوات کے کنارے واقع یہ خوب صورت مقام دلوں میں نئی اُمنگ پیدا کرتا ہے۔ جو لوگ اس وادی کا رخ کرتے ہیں یہاں کے دل فریب مناظر میں کھو کر رہ جاتے ہیں۔

مدین کی حدود پیا خوڑ (پیاندی) سے لے کر مشکون گٹ تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہاں کی کل آبادی قریباً 50 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ یہاں کے لوگ اپنی قدیم تہذیب میں رنگے ہوئے ہیں۔ مذہبی لحاظ سے پکے مسلمان ہیں۔ جنگ و جدل کو پسند نہیں کرتے اور امن و آشتی سے رہنے والے یہ لوگ بڑے مہمان نواز ہیں۔ مدین کا پُرانا نام ’’چوڑڑئی‘‘ ہے۔ یہ نام وادیٔ سوات میں بُدھ مت کے دورِ عروج میں اُسے دیا گیا تھا۔ بعد میں والیٔ سوات میاں گل عبدالحق جہان زیب نے اسے مدین کے نام سے تبدیل کیا۔ مدین کے قرب و جوار میں کئی خوب صورت علاقے موجود ہیں۔ جن میں بیلہ، بشی گرام، شنڑکو، تیراتھ، قندیل، دامانہ، آریانہ، مورپنڈی، چورلکہ، شاہ گرام، الکیش، کالاگرام، شیگل اور گڑھی نامی گاؤں کافی مشہور ہیں۔ ان علاقوں کی خوب صورتی اور حسین مناظر دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں مگر ان میں بعض علاقوں تک پختہ سڑک کی غیر موجودگی نے ان خوب صورت مقامات کو سیاحوں کی نظروں سے پوشیدہ رکھا ہوا ہے۔

 ان علاقوں میں تیراتھ ایک حسین و جمیل علاقہ ہے جو مدین سے جنوب کی طرف دریائے سوات کی مغربی سمت واقع ہے۔ یہ علاقہ قدیم تہذیب و ثقافت، تاریخ و تمدن اور آثارِ قدیمہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں پر آثارِ قدیمہ کافی وسیع رقبے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جن پر کچھ عرصہ قبل محکمہ آثارِ قدیمہ نے باضابطہ طور پر کام شروع کیا تھا جس کے نتیجے میں بدھ مت سے متعلق بہت سی قیمتی اشیا اور نوادرات برآمد ہوئے تھے۔ یہاں مولا مولئی کے مقام پر ایک چٹان پر انسانی پاؤں کے نشانات بھی ملے ہیں۔

جُونوسر، بابوسر، شاہی سر اور میخو سر تیراتھ کی مشہور پہاڑی چوٹیاں اور سیر گاہیں ہیں۔ ان میں جونو سر کی چوٹی کو نمایاں تاریخی مقام حاصل ہے۔ اس کی بلندی دس ہزار فٹ سے لے کر پندرہ ہزار فٹ تک ہے۔ اس کی چوٹی پر سیاحوں کے لئے سیر و سیاحت کی بہت سی دلچسپیاں موجود ہیں۔ یہ پہاڑ قدیم سوات کی تاریخ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں اگر ایک طرف سوات کے قدیم قبائل کی گم شدہ کڑیاں ملتی ہیں تو دوسری جانب یہاں ایسے آثار اور روایات بھی موجود ہیں جن سے زرتشت مذہب، بدھ مذہب اور آریا مت (ہندو) کے متعلق گراں قدر معلومات ہاتھ آ سکتی ہیں۔

اس پہاڑ میں ’’سوما‘‘ (اسے بوٹنی میں اِفیڈرا پلانٹ کہا جاتا ہے اور اس سے ایفیڈرین نامی دوائی کشید کی جاتی ہے) نامی پودا بھی پایا جاتا ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ یہ ہر قسم کی جسمانی قوت کے لئے اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہندوؤں کی مذہبی کتاب رِگ وید کے مطابق یہ پودا بہت قوت بخش ہے اور قدیم زمانے میں یہ روحانی قوت بڑھانے کا ایک بڑا محرک بھی سمجھا جاتا تھا۔ قدیم کتابوں میں اس پودے کے حیرت انگیز کرشمے بیان کئے گئے ہیں۔ اس پودے سے ’’سوم رس‘‘ نامی شراب بھی نکالی جاتی تھی،جس کا ذکر سوم رس کے نام سے ہندوؤں کی قدیم مقدس کتابوں میں تفصیل سے ملتا ہے۔ تیراتھ اور مدین کے درمیان تین چار مقامات پر دریائے سوات پر لکڑیوں اور رسیوں کے اشتراک سے خوب صورت پل بنے ہوئے ہیں جن کے ذریعے متعلقہ علاقوں تک نقل و حمل میں بہت آسانی رہتی ہے۔ ان پلوں سے دریا اور ارد گرد کے دل کش مناظر بہت سرور انگیز اور فرحت بخش محسوس ہوتے ہیں۔

وادیٔ مدین سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا علاقہ چیل ہے جو حقیقی طور پر فردوسِ بریں کا منظر پیش کرتا ہے۔ وادیٔ مدین کے بلند پہاڑوں کی چوٹیاں ہر وقت برف سے ڈھکی رہتی ہیں ۔ یہاں کے ندی نالے اور گن گناتے آبشار کائنات کے فطری حسن و جمال کے حقیقی مظہر ہیں۔ پہاڑوں کے دامن میں واقع یہ وادی بلاشبہ بہت خوب صورت ہے۔ اس کے ایک طرف دریائے سوات بپھرے ہوئے شیر کی مانند دھاڑتا ہوا بہہ رہا ہے اور دوسری طرف چیل خوڑ دریائے سوات سے جا ملتی ہے۔ چیل خوڑ کو دریائے بشی گرام بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دریا، دریائے سوات کا معاون دریا ہے اور اس کا اصل منبع بشی گرام جھیل ہے۔ چیل اور اس کے ارد گرد علاقوں سے بھی برف کا پانی پگھل کر بشی گرام خوڑ میں شامل ہو جاتا ہے۔ مدین میں پل پر سے دریائے بشی گرام اور دریائے سوات کے اتصال کا منظر نہایت دل کش ہے جو دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ وادیٔ مدین میں پھلوں اور دیگر میوہ جات کے بڑے بڑے باغات ہیں۔ جن میں سیب کے باغات کافی مشہور ہیں۔ یہاں جوار، مکئی، آلو، املوک، اخروٹ، آلوچہ،اور عناب وغیرہ بھی وافر مقدار میں پیدا ہوتے ہیں۔

 فضل ربی