سوات کے موسم اور نباتات

وادیٔ سوات دریائے سوات اور اس کے معاونین دریاؤں کے نکاس کا علاقہ ہے۔ اس میں زرخیز سیلابی مٹی پائی جاتی ہے۔ سوات میں وسیع پیمانے پر کاشتکاری کی جاتی ہے۔ یہ اپنے گھنے جنگلوں اور مختلف النوع پھولوں اور پھلوں کی فصلوں کیلئے مشہور ہے۔ چاول، گندم، مکئی، جو، دالیں، سرسوں، گنا اور مسور یہاں کی بڑی فصلیں رہی ہیں۔ بہت اوپر کے علاقوں میں صرف ایک فصل ہوتی ہے جب کہ وادیٔ خاص میں دو فصلیں ہوتی ہیں۔ یہ سارا کا سارا علاقہ اتنا زرخیز ہے کہ اچھی فصلوں کے حصول کے لیے کوئی زیادہ محنت درکار نہیں ہوتی۔ لوگوں کی عام خوراک چاول، گندم اور مکئی ہیں۔ چاول سے یہاں کے لوگوں کی رغبت کا اظہار اس مشہور قول سے بخوبی ہو جاتا ہے۔ سوات کے لوگ بوڑھے ہو گئے لیکن چاول کھانے سے سیری نصیب نہیں ہوئی۔

جڑی بوٹیاں اور جھاڑیاں کثیر تعداد میں اگتی ہیں۔ عام طور پر جو درخت یہاں پائے جاتے ہیں وہ یہ ہیں چنار، سفیدا، بید، توت، سرس، پیستو، بکائن، کیکر، زیتون اور عناب اور بلندی پر اخروٹ اور املوک۔ پھل دار درختوں میں سیب، بہی، آڑواور ناشپاتی بہت عام ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ درختوں کی نئی اقسام پرانی اقسام کی جگہ لے رہی ہیں۔ سوات کے پہاڑ چیڑ اور دیودار کے جنگلات کے لیے مشہور رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں شہد پیدا ہوتا ہے۔ یہاں کا شہد معیار اور مقدار دونوں لحاظ سے نمایاں حیثیت کا حامل گردانا جاتا ہے۔ پالتوں جانوروں میں گائے، بھینس، بکری اور بھیڑ عام طور پر پائے جاتے ہیں۔

معاشرہ کے چند خاص طبقے جیسے گوجر، اجڑ اور گڈریا اپنی روزی کمانے کے لیے انہی پر انحصار کرتے ہیں۔ گھی، مکھن اور دودھ ہر طرف دستیاب ہے۔ سوات میں ان چیزوں کی پیداوار اپنی ضرورت سے زیادہ تھی، اس لیے انہیں برآمد کیا جاتا تھا۔ خوشحال خان خٹک نے سترہویں صدی میں پانی اور فصلوں کی فراوانی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: “گاؤں کے ہر گھر تک چھوٹی ندیوں کا پانی پہنچتا ہے۔ پانی کی اس بہتات کی وجہ سے فصلیں اچھی ہوتی ہیں اور غلہ ضرورت سے زیادہ پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے اسے ہر جانب برآمد کیا جاتا ہے۔” ہندوستان کے برطانوی حکام نے 1880ء اور 1890ء کی دہائیوں میں تیار کردہ ایک خفیہ ریکارڈ میں سوات کی آب و ہوا کو دیگر یوسف زئی میدانی علاقوں سے مختلف بتایا ہے۔ گرم موسم یہاں دیر میں شروع ہوتا ہے لیکن زیادہ مسلسل اور سخت ہوتا ہے۔ ہر طرف کھڑے پہاڑوں کی وجہ سے ہوا آزادی سے گزر نہیں سکتی۔ پہاڑوں میں بکثرت آنے والے طوفان فضا کو ٹھنڈا نہیں کرتے بلکہ نیچے کی وادیوں میں گرم پھنکارتی ہوا کا سبب بنتے ہیں۔

موسم سرما نیچے کے میدانی علاقوں کے مقابلے میں کم سخت ہوتا ہے اس لیے کہ ہوا نہیں چلتی۔ ہر طرف کھڑے برف پوش پہاڑ اس کی راہ مسدود کر دیتے ہیں۔ یہاں کے کم بلند علاقوں میں ہر سال برف نہیں گرتی۔ عموماً تین چار سالوں کے وقفہ کے بعد برف پڑتی ہے لیکن وہ حتمی نہیں ہے۔ سوات میں عام طور پر موسم سرما شدید نہیں ہوتا لیکن لمبا ہوتا ہے۔ میدانی علاقہ کے مقابلے میں یہاں آب و ہوا میں حبس زیادہ ہوتا ہے۔ ہیوں سانگ یہاں کے موسم کے بارے میں کہتا ہے کہ “یہاں گرمی اور سردی قابل برداشت ہیں، ہوا اور بارشیں موسم کے مطابق آتی ہیں۔

سلطان روم

Advertisements

سوات کا پرستان ’بشیگرام ‘

سوات کے علاقہ بشیگرام کو مقامی لوگ پرستان بھی کہتے ہیں ۔ بشیگرام کا علاقہ سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے 51 کلومیٹرز کے فاصلے پر شمال کی جانب واقع ہیں۔ سطح سمندر سے اس کی اونچائی نو ہزار پانچ سو فٹ ہے، اس حسین وادی میں بہنے والا پر شور دریا، سبزہ اور رنگ برنگے پھول ہر ایک کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی محکمہ سیاحت نے اس حسین وادی میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے ہٹس اور پارک تعمیر کیا ہے تاکہ علاقے میں سیاحت کو فروغ دیا جا سکیں۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد علی سید کے مطابق ٹوارزم کارپوریشن ایسے پروجیکٹس لگا کر نئے علاقے سیاحوں کیلئے کھول رہے ہیں تاکہ شہروں پر بوجھ کم ہواور یہ بتا سکیں کہ ماحول دوست سیاحت کیا ہے۔

بشیگرام کا یہ خوبصورت علاقہ ابھی تک زیادہ تر ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی نظروں سے اوجھل ہیں تاہم سیاحت کے شوقین افراد اب بھی اس دلفریب وادی کا رخ کرتے ہیں جہاں ٹھنڈی ہواؤں، قدرتی مناظر، پر شور دریا اور پرندوں کی چہچہاہٹ کا مزہ لیتے ہیں۔ ایک سیاح کا کہنا ہے کہ اس جگہ پر قدرتی ہوائیں اور یہاں کا موسم بہت زبردست ہے۔ جگہ بہت زبر دست ہے لیکن روڈ ٹھیک نہیں ہیں۔ وادی بشیگرام کے آخری سرے پر گیارہ ہزار پانچ سو فٹ کی بلندی پر واقع طلسماتی اور دلفریب بشیگرام جھیل بھی موجود ہے تاہم رابطہ سڑک نہ ہو نے کے باعث ابھی تک سیاحوں کی نظروں سے اوجھل ہے۔

سوات : کالام میں اسنو جیپ ریلی کا انعقاد

سوات کی حسین وادی کالام کی اسنو جیپ ریلی میں ماہر ڈرائیوروں نے کمال مہارت کا مظاہرہ کر کے سب کو حیران کر دیا۔ پاک فوج اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سطح سمندر سے ساڑھے 8 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع جنت نظیر وادی کالام میں اسنو جیپ ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے 42 ڈرائیوروں نے حصہ لیا ، ڈرائیوروں کو سنگلاخ راستوں اور برف میں 7 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا تھا، جس میں اُنہوں نے خوف کی پرواہ کئے بغیرجیپیں دوڑائیں۔ ریلی کے اختتام پر ڈرائیورز کا کہنا تھا کہ ٹریک بہت سخت تھا، برف بھی تھی اور      گاڑی کنٹرول نہیں ہو ئی، جب تک صحیح ٹائرز نہ ہو تو مشکل ہے ، تاہم بڑا مزہ آیا۔

ڈرائیورز کا کہنا تھا کہ انہیں جیپ ریلی بہت اچھی لگی، اور انہوں نے کہا کہ ہم سب خوش قسمت ہیں جو جیپ ریلی انجوائے کر رہے ہیں۔ مقابلہ تین حصوں پر مشتمل تھا، جس میں کالام کے ملک امیر سید نے کٹیگری اے میں 7 کلومیٹر کا فاصلہ 5 منٹ میں طے کر کے میلہ لوٹ لیا، کالام ہی کے جاوید کالامی نے کٹیگری بی میں لوہا منوایا تو کٹیگری سی میں پشاور کے فضل احمد بازی لے گئے۔ تقریب کے مہمان خصوصی پاک فوج کے کرنل ایاز ولی ،آرگنائزر اسد مروت اور سعد عباسی تھے جنہوں نے پوزیشن حاصل کرنے والے ڈرائیوروں میں انعامات تقسیم کئے، ملک بھر سے سیاحوں کی بڑی تعداد بھی جیپ ریلی کے مقابلوں اور حسین مناظر کو دیکھنے کے لیے موجود تھی۔

سوات کوہستان : سوات کا ایک خوب صورت اور پُر کشش علاقہ

سوات کوہستان وسیع و عریض وادیٔ سوات کا ایک خوب صورت اور پُر کشش علاقہ ہے۔ اس کی حدود مدین اور بحرین کے درمیان واقع ایک حسین مقام ’’ساتال‘‘ (مشکون گٹ) سے شروع ہوتی ہیں اور بحرین ، کالام، اُتروڑ، گبرال، اُوشو، مٹلتان اور مہوڈنڈ کے سحر انگیز مقامات اور ان کی بلند و بالا برف پوش چوٹیوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ جغرافیائی طور پر سوات سے کوئی الگ علاقہ نہیں ہے بلکہ اپنی مخصوص زمینی ساخت، زبان اور بلند و بالا پہاڑوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اسے ’’سوات کوہستان‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ بحرین کو سوات کوہستان کا دروازہ کہا جاتا ہے اور اس مقام پر مہوڈنڈ اور گبرال سے نکلا ہوا دریائے سوات درال ندی کو اپنی بپھری ہوئی لہروں میں ضم کر لیتا ہے۔

سوات کوہستان کا پورا علاقہ سردیوں میں برف کی سپید چادر اوڑھے رکھتا ہے اور یہاں سردیوں میں 10 سے 16 فٹ تک برف پڑتی ہے۔ اس کے پہاڑی علاقے برفانی باد و باراں کی لپیٹ میں رہتے ہیں اور بیشتر علاقوں کے مکین اپنے اپنے گھروں میں شدید برف باری کے باعث محصور ہو کر رہ جاتے ہیں۔ سردی کے موسم میں بعض اوقات یہاں بڑے بڑے گلیشیئر پہاڑوں کی بلندیوں سے لڑھکتے ہوئے نیچے کی طرف آتے ہیں جن کی تند و تیز ہوا سے بڑے بڑے مضبوط درخت بھی جڑ سے اُکھڑ جاتے ہیں۔ سردی کے موسم میں زیادہ برف باری کی وجہ سے اُتروڑ، گبرال اور مٹلتان وغیرہ کی وادیوں سے دیگر علاقوں کا زمینی راستہ کٹ جاتا ہے اور کئی ہفتوں تک یہاں کے باشندے سوات کے مرکزی شہر منگورہ تک آنے جانے سے قاصر رہتے ہیں۔ 

بحرین کی وادی میں زیادہ تر جو کوہستانی بولی جاتی ہے، اسے توروالی کہتے ہیں جبکہ کالام اور اس کے قرب و جوار کے مقامات کے لوگ گاؤری نامی کوہستانی زبان بولتے ہیں۔ تاہم پشتو زبان یہاں عام بولی جاتی ہے اور بیشتر لوگ اُردو بھی بآسانی بول اور سمجھتے ہیں۔’’سوات کوہستان‘‘ کا پورا علاقہ وادیٔ سوات میں سب سے زیادہ حسین اور پُرکشش ہے۔ جہاں خوب صورت جھیلیں ہیں ، گن گناتے آبشار ہیں ، صحت بخش پانی کے چشمے ہیں ، منہ زور ندیاں ہیں ، فلک بوس اور برف پوش چوٹیاں ہیں ، گھنے جنگلات ہیں ، قیمتی جڑی بوٹیاں ہیں ، گل رنگ اور خوش رنگ پھول ہیں ، نایاب پرندے اور جنگلی جانور ہیں ، دل موہ لینے والے وسیع سبزہ زار ہیں اور سب سے بڑھ کر پُر خلوص اور مہمان نواز لوگ ہیں۔ جن کی تمام تر معیشت کا انحصار جنگلات کی رائلٹی اور سیاحوں کی آمد و رفت پر ہے۔ پورے علاقہ میں سیاحوں کے لئے ہر قسم کی سہولتیں موجود ہیں۔ ہر معیار کے جدید ہوٹل اور ریسٹ ہاؤس ہیں جن میں سیاحوں کے لئے کم و بیش ہر نوع کی سہولتیں موجود ہیں۔ 

کوہِ ہندوکش اور کوہِ ہمالیہ کے طویل سلسلوں سے گھِرا ہوا یہ پورا علاقہ نہایت خوش گوار اور معطر آب و ہوا پر مشتمل ہے۔ یہاں کے پہاڑوں اور جنگلات میں مرغ زرین، چکور، ہرن اور ریچھ وغیرہ جیسے نایاب پرندے اور جانور پائے جاتے ہیں۔ جن کے تحفظ کے لئے حکومت نے کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے یہ نادر جانور اور نایاب پرندے یہاں سے بڑی تیزی سے معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں دریائے سوات کے ٹھنڈے پانی میں ٹراؤٹ مچھلیاں بھی پائی جاتی ہیں جو اپنی منفرد لذّت کے لحاظ سے شہرت کی حامل ہیں۔ ان مچھلیوں کا شکار خود بھی کیا جا سکتا ہے اور تیار تازہ مچھلیاں خریدی بھی جا سکتی ہیں۔ تاہم ان کے شکار سے لطف اندوز ہونے کے لئے متعلقہ محکمہ کے مجاز اہل کاروں سے باقاعدہ اجازت (پرمٹ) لینا پڑتی ہے۔

سوات کوہستان اپنی بے پناہ خوب صورتی اور غیر معمولی رعنائی کی وجہ سے سیاحوں کے لئے جنت کی حیثیت رکھتا ہے اور یہاں کی معّطر اور پُر کشش وادیوں کی رنگینوں سے لطف اندوز ہو کر سیاح بار بار یہاں کا رْخ کرتے ہیں۔ نہ صرف یہاں کے حسین قدرتی مناظر سے محظوظ ہوتے ہیں بلکہ یہاں کی مقامی مصنوعات، تازہ پھل، شہد اور اخروٹ جیسی سواتی سوغات بھی اپنے ساتھ لے  جاتے ہیں۔

فضل ربی

 

دریائے سوات کا پانی آلودہ ہونے لگا

دریائے سوات کا صاف و شفاف پانی آہستہ آہستہ آلودہ ہو رہا ہے۔ سوات کے شہر مینگورہ کے ہجوم کو قابو میں رکھنے کیلئے گزشتہ دور حکومت میں دریائے سوات کے کنارے بائی پاس روڈ بنایا گیا تو سڑک کنارے کئی ریسٹورنٹس اور     ہوٹل تعمیرکر لئے گئے ۔ ان ریسٹورنٹس اور ہو ٹلوں کے پانی کے نکاس اور گٹر کا پانی براہ راست دریا میں جانے سے دریائے سوات کا پانی آہستہ آہستہ آلودہ ہونے لگا، ساتھ ہی ساتھ شہر بھر کا کُوڑا کرکٹ بھی دریا کنارے پھینکا جا رہا ہے، جس سے گندگی اور تعفن پھیل رہا ہے ۔ ہوٹلوں کی گندگی اس دریا میں ڈالی جاتی ہے، اب تو اس میں کو ئی نہا بھی نہیں سکتا۔

ماضی میں دریائے سوات کا پانی اس قدر صاف، شفاف تھا کہ اسے پینے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا تھا، تاہم اب آلودہ ہو نے والا پانی انسانوں کے ساتھ ساتھ فصلوں اور مچھلیوں کیلئے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ شہر کے ناظم اکرام خان کہتے ہیں کہ گندگی پھیلانے والے ہوٹلوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔
شہری کہتے ہیں کہ دریا کنارے آباد ہوٹلوں کی انتظامیہ کو اگر دریا میں گندگی ڈالنے سے نہ روکا گیا تو انسانوں سمیت دریا میں موجود مچھلیوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
 

سوات میں سید اکبر شاہ کی حکومت

سوات صدیوں سے قبائلی دور سے گزر رہا تھا کہ 1850ء میں اخون صاحبِ سوات (سیدو بابا) نے سوات اور بونیر کے باشندوں کے مشورے سے ستھانہ کے رئیس سید اکبر شاہ کو سوات کا بادشاہ منتخب کیا۔ جدید سوات کی پہلی شرعی حکومت کا دارالخلافہ موضع غالیگی قرار پایا۔ شریعت اسلامیہ کے نام سے حکومت نے کام شروع کیا۔ اس دوران ہندوستان کی جنگِ آزادی 1857ء کا آغاز ہوا۔ اس وقت جب کہ مذکورہ جنگ کی خبریں سرزمینِ سرحد میں پہنچنے لگی تھیں، 11 مئی 1857ء کو سید اکبر شاہ وفات پا گئے۔ان کے انتقال سے اس اولین حکومت کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ انگریزوں کو، اس حکومت سے جو خطرہ پیدا ہو رہا تھا، اس کا اندازہ سر ہربرٹ ایڈورڈ کے ان الفاظ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ ’’ اگر سوات میں شرعی حکومت اور جنگجو قبائل کا سربراہ سید اکبر شاہ زندہ ہوتا تو 1857ء کی جنگ کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔‘‘

فضل ربی

شمالی علاقوں کی جھیلیں اور گلیشیئر

اس کیبن کے سامنے ایک نوجوان میٹرس پر دراز تھا۔ اس کے جسم پر موجود ہائی آلٹی چیوڈ جیکٹ، بیشمار جیبیں رکھنے والا کاٹن کا نیلا ٹراؤزر، کیمپ شوز اور قیمتی چشمے اسے شوقیہ ’ٹریکر‘ سے کچھ اونچی چیز ثابت کر رہے تھے۔ خدوخال سے وہ مقامی لگتا تھا ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ اسے ڈسٹرب کرنا مناسب بھی ہو گا یا نہیں کہ وہ خود ہی اٹھ بیٹھا۔ ’’السلام علیکم۔ ‘‘ ’’وعلیکم السلام۔ ‘‘ میں نے گرمجوشی سے ہاتھ ملایا۔ ’’مجھے عثمان ڈار کہتے ہیں۔ ‘‘ ’’میرا نام اقبال ہے، آپ کہاں سے آئے ہیں ؟‘‘ ’’گلگت سے۔ ‘‘ ’’اچھا؟ گلگت کے باسی بھی پہاڑوں کی سیر کے شوقین ہوتے ہیں ؟ ‘‘ وہ ہنسنے لگا۔ ’’ میں اس وقت گلگت سے آیا ہوں ورنہ میں اسلام آباد کا رہنے والا ہوں۔ ‘‘

’’گلگت بھی سیر کے لئے گئے تھے؟‘‘ ’’ وہاں ملازمت کے سلسلے میں گیا تھا۔ ‘‘ ’’آپ کونسے محکمے میں ہیں ؟‘‘ ’’ ذرا غیر معروف سا محکمہ ہے، واٹر ریسورسز ریسرچ انسٹیٹیوٹ اسلام آباد۔ ‘‘ ’’میں نے یہ نام پہلی بار سنا ہے۔ ‘‘ میں نے اعتراف کیا۔ ’’ آپ کا محکمہ کیا کرتا ہے؟‘‘ ’’ہم پاکستان کے آبی ذخائر پر ریسرچ کرتے ہیں۔ آجکل ایک خاص سروے کر رہے ہیں جس میں ہم یہ اندازہ لگانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں کتنی گلیشیئر جھیلیں (Glacier Lakes) ہیں ا ور اِن میں سے کتنی ایسی ہیں جو خطرے کا باعث ہو سکتی ہیں۔ ‘‘

’’ گلیشیئر لیک کوئی خاص قسم کی جھیل ہے؟‘‘ ’’بالکل … کچھ تو مستقل جھیلیں ہوتی ہیں جیسے نلتر جھیل، کچورا جھیل یا پھر جھیل سیف الملوک۔۔۔ ’’جبکہ کچھ جھیلیں گلیشیئر کے پگھلنے کی وجہ سے گلیشیئر کے درمیان میں بنتی ہیں اور جب پورا گلیشیئر پگھل جاتا ہے، یعنی جھیل کی دیواریں ختم ہو جاتی ہیں تو پانی بہہ نکلتا ہے اور ارد گرد کے علاقوں کو خاصا نقصان پہنچتا ہے۔ ‘‘ ’’اس کا مطلب ہے آپ اس وقت ڈیوٹی پر ہیں ؟‘‘ ’’کسی حد تک۔۔۔ ورنہ کوہ پیمائی میرا ذاتی شوق ہے۔ ‘‘ ’’اگر کسی شخص کو اس کے شوق کے مطابق ہی جاب مل جائے تو اسے اللہ تعالیٰ کی خاص کرم نوازی سمجھنا چاہئے۔ 

کیا یہاں بھی کوئی گلیشیئر جھیل ہے؟‘‘ ’’بالکل ہے اور بہت خوبصورت منظر پیش کرتی ہے۔ اگر آپ ہائی کیمپ جائیں تو یہ جھیل دیکھ سکتے ہیں۔ ‘‘ ’’ہائی کیمپ ؟‘‘ میں نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔ ’’اس جگہ کو لوئر بیس کیمپ کہتے ہیں ، سامنے والی پہاڑی کو کراس کر لیں تو ہائی کیمپ آ جاتا ہے۔ ‘‘ اس نے ایک پہاڑی کی طرف اشارہ کیا۔ ’’بس۔۔۔ بس۔۔۔۔ ‘‘ میں نے گھبرا کر کہا۔ ’’پہاڑی کراس کرنے کا نام نہ لیں ورنہ میں بیہوش بھی ہو سکتا ہوں۔ ‘‘ عثمان ہنسنے لگا۔ ’’اقبال صاحب۔۔۔ میرا تو آپ نے پورا انٹرویو لے ڈالا اور اپنا صرف نام بتایا ہے اور وہ بھی ادھورا۔۔۔ کیا یہ زیادتی نہیں؟‘‘ ’’سوری۔۔۔ ‘‘ میں نے شرمندگی سے کہا اور اپنا تعارف کروایا۔ ’’ڈاکٹر صاحب آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی اور حیرانی بھی، میرا خیال تھا کہ ڈاکٹروں کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ ٹریکنگ جیسے مشاغل اپنائیں۔ ‘‘ 

’’میں نہ تو بہت مصروف ڈاکٹر ہوں اور نہ ہی باقاعدہ ٹریکر۔۔۔۔ اور ہمارے اس سفر کو آؤٹنگ تو کہا جا سکتا ہے، ٹریکنگ کہنا بے ایمانی ہو گی۔۔۔۔۔ خیر آپ یہ بتائیں کہ کیا آس پاس کوئی اور گلیشیئر لیک نہیں ہے جسے ذرا آسانی سے دیکھا جا سکے ؟‘‘ ’’اتفاق ہے کہ یہاں اور کوئی ایسی جھیل نہیں ہے ورنہ شمالی علاقہ جات میں پانچ ہزار دو سو اٹھارہ گلیشیئر جھیلیں پائی جاتی ہیں۔ ‘‘ ’’پانچ ہزار؟۔۔۔ واقعی۔۔۔۔ آپ پانچ سو تو نہیں کہنا چاہتے؟‘‘ ’’پانچ۔۔۔ ہزار جناب۔۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ صرف تریپن ایسی ہیں جنہیں آبادی کے لئے خطرناک کہا جا سکتا ہے۔ ‘‘۔ ’’اور اِس جھیل کا راستہ خطرناک ہے۔ ‘‘ میں نے حسرت سے کہا۔ ’’کاش یہ نامعقول پہاڑی راہ میں حائل نہ ہوتی۔ ‘‘ ’’خطرناک؟ نہیں نہیں ، دْشوار تو کہہ سکتے ہیں لیکن خطرناک نہیں ہے۔ ‘‘ 

’’آپ وہاں سے ہو آئے ہیں ؟‘‘ ’’میں آج وہیں سے واپس آیا ہوں۔ ‘‘ ’’آپ وہاں کتنی دیر میں پہنچے اور۔۔۔ اور آپ نے وہاں کیا دیکھا؟‘‘ ’’میں چھ گھنٹے میں وہاں پہنچ گیا تھا، پھر میں نے پنگا لے لیا۔ ‘‘ ’’کیسا پنگا؟‘‘ ’’میں نے سوچا جس راستے سے آیا ہوں اْسی سے واپس جانے کی بجائے کیوں نہ گلیشیئر عبور کر کے پہاڑی کی دوسری جانب سے نیچے اتروں۔ ‘‘ ’’پھر؟‘‘ ’’پھر یہ کہ میں چلتے چلتے بے دم ہو گیا مگر سفر ختم نہیں ہو رہا تھا۔ بالآخر مجھے یقین ہو گیا کہ میں راستے سے بھٹک گیا ہوں۔ مجھے ٹینشن ہونے لگی اور اسی ٹینشن میں ایک جگہ میں پھسل گیا۔ ‘‘ ’’پھسل گئے ؟‘‘ میں نے خوفزدہ انداز میں دہرایا۔ میں اِن راستوں پر پھسلنے کے نتائج سے کسی حد تک آگاہ تھا۔ ’’ہا ں اور نیچے انتہائی گہری کھائی تھی۔ میں تقریباً تیس چالیس میٹر نیچے سلائڈ کر چکا تھا کہ میری سٹک ایک پتھر میں اٹک گئی اور خدا کا شکر ہے کہ میں سنبھل گیا۔ پھسلنے کے بعد ذرا عقل آ گئی تھی اس لئے قطب نما کا سہارا لیا اور شکر ہے راستہ ملتا گیا … واپسی کے سفر میں مجھے گیارہ گھنٹے لگے۔

ڈاکٹر محمد اقبال ہما