Beauty of Sawat

Sawat is mini Switzerland of Pakistan.

کنڈول جھیل کے پرمسرت نظارے

downloadیہ کنڈول جھیل ہے وادی سوات اتروڑ میں واقع یہ جھیل گلیشئر سے بنی ہے ۔ جھیل تک پہنچنے کا راستہ انتہائی دشوار گزار ہے ۔ جھیل کے علاوہ وادی کنڈول میں جنگلی پھولوں کی بہار ہے ۔ ایسے پھول جنہیں آپ نے کہیں نہیں دیکھا ہو گا۔ کنڈول جھیل کے بارے میں ایک سیاح لکھتے ہیں ’’پہاڑ عبور کیا تو وادی کنڈول ہمارے ساتھ تھی ۔ سور ج غروب ہونے کے قریب تھا اور ڈوبتے سورج کی سنہری کرنوں سے کنڈول جھیل سیال سونے کی طرح جگمگا رہی تھی ۔ فی الواقع ایک مبہوت کرنے والا منظر ہمارے سامنے تھا ۔

ایسا منظر کہ ہم پر پیچ راستے ، بلندو بالا پہاڑوں کی خوفناک ڈھلانیں ، مشقتوں سے بھرا طویل سفر ، سوجے قدموں کی تکالیف سب بھول گئے ۔ کنڈول کے پرمسرت نظارے نے دلوں کو خوشی اور مسرت سے بھر دیا۔ پہاڑوں کے درمیان دور تک پھیلی ہوئی وسیع و عریض جھیل ، جھیل کے کنارے پر برف کے بڑے بڑے گلیشئر ، جھیل تک پہنچنے والے میدان میں ہر طرف داد دیتے خوبصورت پھول، نیلے نیلے، پیلے پیلے پیراہن ۔ ہمیں جھیل سیف الملوک کے نظارے بھی ہیچ نظر آئے۔ یہاں تک آنے کے پیسے پورے ہوگئے۔

(ہوائوں کے سنگ اور نیٹ سے ماخوذ)

سوات کا لکڑی اور چمڑے کا فرنیچر اپنی مثال آپ

 

 

فطرت کا گھر : ناران، کاغان اور جھیل سیف الملوک

113938626_9d80646953وادی ٔ کاغان کی خوبصورتی کو دیکھ کر بے ساختہ یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ پوری وادی فطرت کا گھر ہے ۔ دنیا میں وادی کاغا ن کو پا کستان کی دل کی دھڑکن سمجھا جا تا ہے۔ جنگلا ت اورپرندو ں کی میٹھی بو لیاں سننے کو ملتی ہیں ۔ وادی کا غان میں دنیا کے کو نے کو نے سے سیا ح وادی کی خو بصو رتی کا منظر دیکھنے کو آتے ہیں ۔ وادی کاغان سالہا سال سیّاحوں سے بھری رہتی ہے ۔ وادی کاغان سطح سمندر سے 3 ہزار فٹ سے شرو ع ہو کر 30 ہزار 690 فٹ پر بابو سر پاس پر اختتام پذیر ہو ئی ہے۔ دریا ئے کنہا ر اس وادی کا مرکزی دریا ہے ۔ وادی کا غان شاہراہ قراقرم بننے سے پہلے گلگت اور شما لی علا قہ جا ت سے باقی ملک کے ملاپ کا واحد زمینی زریعہ تھی ۔

اگر آپ کو وادی کاغان کا نظارہ کرنا ہو تو آپ کو سفر کا آغاز ایبٹ آباد سے شروع کرنا ہو گا ۔ ایبٹ آبا د سے ہو تے ہوئے مانسہرہ پہنچتے ہیں ۔ جہاں سے  کاغان روڈ شاہراہ ریشم سے الگ ہو تی ہے۔ یہ شاندار سڑک جابہ پاس کے گھنے   جنگلات سے گزرتی ہے۔ اور دوسری جانب آپ دریا ئے کنہار کا پہلا نظارہ کرتے ہوئے بالا کوٹ پہنچتے ہیں۔ جو وادی کا پہلا بڑا شہر ہے۔ اسے وادی کاغان کا دروازہ بھی کہتے ہیں۔ بالا کوٹ کو اس وجہ سے بھی اہمیت حاصل ہے۔ بالا کوٹ سے آگے سڑک یک دم اوپر کو اٹھتی ہے۔ اور کچھ ہی دیر میں آپ کو بلندی پر لے جاتی ہے۔ اور دریا ئے کنہا ر نیچے گہرائی میں ایک ندی کی ماند دکھائی دیتا ہے۔ بالا کوٹ سے 24 کلو میٹر فاصلے پر کیوائی کا ایک قصبہ آتا ہے۔ کیوائی سے 8 کلو میٹر آگے شوگراں کا ایک خوبصورت مقام آتا ہے۔ سطح سمندر سے 7750 فٹ بلند یہ مقام پہا ڑو ں میں گھرا ہوا ہے۔

وادی کاغان روڈ سے کیوائی سے 6 کلو میٹر کے فاصلے پر پارس کا قصبہ آتا ہے۔ یہاں پر لو گ چائے اور پا نی کا وقفہ کرتے ہیں۔ پارس سے ایک جیپ روڈ دریا پر بل کھاتی ہوئی 16 کلو میٹر دور اور 7872 فٹ کی بلندی پر واقع شاران کے مقام تک جاتی ہے۔ انتہائی گھنے جنگل میں واقع یہ پرسکون اور غیر آباد مقام اپنے اندر ایک کشش رکھتا ہے۔ اگر تنہائی کی خوبصورتی کو قریب سے دیکھنا ہو تو شاران موزوں جگہ ہے۔ شاران مشہو ر پہا ڑ موسیٰ کا مصلیٰ (13,378) فٹ کے دامن میں واقع ہے ۔ اس علا قے میں حیات کی کثرت ہے۔ انواع و اقسام کے پرندوں کے علا وہ چیتا اور ریچھ بھی پا یا جاتا ہے ۔ وادی کا غان رو ڈ پر پارس سے چند کلو میٹر آگے شینو کا قصبہ آتا ہے۔

کھنسیا ں سے مزید 5 کلو میٹر آگے وادی کا غان کا قصبہ آتا ہے اور وادی کا نام بھی اسی قصبہ کی طرز پر رکھا گیا ہے۔ وادی کا غان کے اطراف میں چند ایک دلکش اور خوبصورت مقامات پا ئے جا تے ہیں۔ جن میں شنگڑی قابل ذکر ہے۔ وادی کا غان سے مشق کی سمت میں ایک جیپ ٹریک مکھلا عیا ں خوبصورت گائو ں سے ہو تا ہوا 12700 فٹ بلند مقا م شنگڑی تک پہنچتا ہے۔ یہا ں سے چاروں اطرا ف میں وادی کے دلکش طائرانہ منا ظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔    گرمیو ں میں یہ مقام پھولو ں سے بھر جاتا ہے۔ اور یہ کیمپنگ کے لیے آئیڈل ترین جگہ ہے۔ وادی کاغان سے آگے سڑک خوبصورت نظاروں سے گزرتی ہوئی 24 کلو میٹر دور وادی کے مرکز ناران میں پہنچتی ہے ناران سیا حو ں کا مرکز ہے۔

اور یہاں پر وادی ہموار اور نسبتاً وسیع میدا ن شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ناران میں قیا م و طعام کی جدید ترین سہو لتیں حاصل ہو تی ہیں اور مرکزی بازار میں ضرورت کی تما م اشیا ء آرام سے دستیا ب ہو جاتی ہیں۔ ناران پہنچنے والا ہر   سیاح وادی کاغان کی سب سے مقبو ل ترین تفریح گاہ جھیل سیف الملوک پہنچنے کیلئے بے قرار نظر آتا ہے۔ نا ران سے صرف 8 کلو میٹر دور اور سطح سمند ر سے 10550 فٹ بلند یہ حسین ترین جھیل افسانوی شہرت کی حامل ہے ۔ چاروں طرف سے برفیلے پہاڑ وں میں گھری اس پیالہ نما جھیل کے متعلق رومانوی دستانیں بہت مشہور ہیں۔ اس جھیل کے پانیو ں میں ملکہ پربت کا حسین اور خوبصورت ترین منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔

زوہا بخاری

Swat Valley back on its way to becoming ‘the Switzerland of Pakistan’

Swat Valley back on its way to becoming ‘the Switzerland of Pakistan’.

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

شنگرئی : سوات کی خوبصورت آبشار

CK-siN7UEAMczGtفلک بوس پہاڑوں، گھنے جنگلات، بَل کھاتی ندیوں، سحر انگیز آبشاروں اور میٹھے جھرنوں کی سرزمین وادیٔ سوات کو پروردگار نے ملکوتی حسن سے نوازا ہے۔ اس وادی کے حسن کو چار چاند لگانے میں اگر ایک جانب سیدوگئی، کنڈول، سپین خوڑ، درال اور بشیگرام جیسی خوبصورت جھیلوں کا کردار ہے تو دوسری جانب جاروگو، جامبل اور اوشو جیسی آبشار رہی سہی کسر پوری کر دیتی ہیں۔ ایسی ہی ایک سحر انگیز آبشار ’’شنگرئی ‘‘بھی ہے جس کے بارے میں باقی ماندہ ملک تو درکنار خود سوات کی بیشتر آبادی بھی لاعلم ہے۔ آبشار کو مقامی لوگ ڈنڈ یا چڑھ کہتے ہیں۔ دونوں دراصل پشتو زبان کے الفاظ ہیں، لیکن پشتو زبان میں جھیل کے لیے موزوں ترین لفظ ڈنڈ (جو کہ سندھی میں ڈھنڈ ہے) اور آبشار کے لیے چڑھ ہے۔maxresdefault

شنگرئی آبشار سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کے نواحی علاقہ منگلور کے پہاڑوں میں واقع ہے۔ مذکورہ پہاڑوں میں ایک سرسبز و شاداب گاؤں شنگرئی کے نام سے بھی آباد ہے۔ یہ گاؤں سوات کے مرکزی شہر سے لگ بھگ 18 سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ مینگورہ شہر سے بذریعہ سڑک 45 منٹ میں شنگرئی گاؤں بآسانی پہنچا جا سکتا ہے۔ پہاڑوں کے اوپر واقع شنگرئی گاؤں میں مٹی اور گارے سے بنے گھر بکھرے موتیوں کی طرح بے ترتیب آباد ہیں۔ آبشار تک رسائی کے لیے کئی راستے ہیں، مگر ان میں سے دو کا استعمال زیادہ ہے۔ ایک تو گاؤں پہنچنے سے پہلے وہ کچا راستہ ہے جو آبشار کے ساتھ رہائش پذیر آبادی نے اپنی مدد آپ کے تحت پہاڑ کا سینہ چیر کر بنایا ہے۔ اس پر موٹر سائیکل یا پھر سائیکل کی مدد سے بآسانی آبشار تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

دوسرا راستہ قدرے صبر آزما اور کم استعمال کیا جانے والا ہے جو پہاڑ کی چوٹی سے ایک اچھی خاصی ہائیک کے ذریعے نیچے آبشار تک جاتا ہے۔ چوٹی سے نیچے آبشار تک گاؤں والوں نے واکنگ ٹریک بنایا ہے جسے مقامی و غیر مقامی سیاح ہائیکنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ 15 مارچ سے لے کر 30 اپریل تک اس ٹریک پر ہائیکنگ کا اپنا مزہ ہوتا ہے۔ راستے میں رنگ برنگے خودرو پھول دعوت ِنظارہ دیتے ہیں۔ یہ پھول آبشار کے ساتھ کھیتوں کے کنارے یا پھر پگڈنڈیوں پر کھلتے ہیں۔ یہ نیلے، پیلے اور لال رنگ کے ہوتے ہیں۔ بہار کی آمد کے ساتھ ہی آبشار کے تمام راستے ان پھولوں سے اٹے پڑے رہتے ہیں، جو دامنِ دل کھینچنے میں ذرہ بھر دیر نہیں کرتے۔ مقامی و غیر مقامی سیاح مارچ کے وسط سے لے کر اکتوبر کی آخری تاریخ تک شنگرئی آبشار آتے رہتے ہیں۔

سیاح آبشار کے احاطے میں واقع بڑے بڑے پتھروں کے اوپر چڑھ کر آبشار کے دلفریب مناظر کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کرتے ہیں اور پھر انہی پتھروں کے اوپر چٹائی یا دری بچھا کر کھانا کھاتے ہیں یا جوس و دیگر روایتی مشروبات کا لطف اٹھاتے ہیں۔ بیشتر سیاح آبشار پہنچتے ہی تصاویر اتارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ شنگرئی آبشار کا قطر قریباً 70 فٹ جبکہ اونچائی 35 فٹ کے قریب ہے۔ آپ جب آبشار کے بالکل سامنے کھڑے ہوتے ہیں، تو سیدھے ہاتھ پہاڑ کے دامن میں ایک اچھا خاصا جنگل نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی یہ علاقہ سرسبز و شاداب ہے اور ہر طرف کھیت ہی کھیت نظر آتے ہیں ،جن میں زیادہ تر گندم اور مکئی کی فصل کاشت کی جاتی ہے۔ شنگرئی آبشار چاروں جانب سے پہاڑوں میں گھری ہے۔ یہ جگہ بیضوی شکل لیے ہوئے ہے۔ آبشار کا پانی ایک ندی کی شکل میں نیچے منگلور خوڑ کے ساتھ ملتا ہے جو آگے جا کر دریائے سوات میں شامل ہوجاتا ہے۔

اپریل کے آخر تک آبشار کا پانی اتنا ٹھنڈا ہوتا ہے کہ اسے صرف چھوا ہی جا سکتا ہے۔ مئی کے وسط تک سیاح منہ ہاتھ دھونے پر اکتفا کرتے ہیں جبکہ جون، جولائی اور اگست کے مہینوں میں یہاں بیشتر سیاح پانی میں غوطے لگاتے نظر آتے ہیں۔ مارچ اور اپریل کے مہینوں میں بارشوں کی وجہ سے آبشار میں پانی کا بہاؤ زیادہ ہوتا ہے جبکہ مئی، جون، جولائی اور اگست کے مہینوں میں گرمی کی شدت میں اضافے کی وجہ سے پہاڑوں پر جمی برف پگھلنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے جس سے آبشار میں پانی کا تیز بہاؤ برقرار رہتا ہے۔ دونوں موقعوں پر نیچے گرتا پانی دور دور تک پھوار کی شکل میں اڑتا رہتا ہے اور قریب آنے والے سیاحوں کو تر کر دیتا ہے۔ پھوار پڑتے وقت تھکے ہارے سیاحوں میں گویا جان سی پڑجاتی ہے اور اس وقت ان کا جوش و خروش دیدنی ہوتا ہے۔ تصاویر اتارنے کے بعد آگ روشن کرنے کے لیے لکڑیوں کو اکٹھا کرنے کا عمل شروع ہوتا ہے اور آخر میں آگ روشن کر کے کھانا تیار کیا جاتا ہے۔ واپسی کے وقت چوٹی تک چڑھنے کا عمل ایک صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے، جس میں 30 سے لے کر 45 منٹ تک صرف ہوسکتے ہیں۔ سیاح اپنے ساتھ لائی ہوئی پانی کی بوتلیں آبشار کے پانی سے بھرتے ہیں اور واپس پہاڑ پر چڑھتے وقت پیاس بجھانے کے لیے وقتاً فوقتاً پیتے رہتے ہیں۔

شنگرئی گاؤں تک آنے والی سڑک بے حد خراب ہے یہ سچ ہے کہ شنگرئی مرکزی سڑک سے قدرے دور ہے، لیکن اس گاؤں میں اچھی خاصی آبادی ہے اور سب سے بڑھ کر شنگرئی آبشار ہے جس کا شمار پاکستان کی خوبصورت آبشاروں میں ہوتا ہے، مگر انتظامی لاپرواہی کی وجہ سے یہاں تک لوگوں کی رسائی مشکل سے ہوتی ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ پہاڑوں کے بیچ واقع اس گاؤں کی اہم اور واحد سڑک پر پچھلے کئی سالوں سے کوئی توجہ نہیں دی گئی اور یہی وجہ ہے کہ اس کی سڑک تنگ اور خستہ حال ہے۔ پہاڑوں میں بل کھاتی ہوئی اس خراب سڑک سے گزرنا واقعی ایک کٹھن عمل ہے۔

امجد علی سحاب

Malam Jabba : Pakistan’s first Ski resort

The Malam Jabba Ski Resort, owned by the Samsons Group of Companies, has a ski slope of about 800 m with the highest point of the slope 2804 m (9200 ft) above sea level. Malam Jabba Ski Resort was possible due to the joint efforts of the Pakistan government and its Austrian counterpart. The resort was equipped with modern facilities including roller/ice-skating rinks, chair lifts, skiing platforms, telephones and snow clearing equipment. MOU signing ceremony for developing Malamjabba resort was held on 6 September 2014 in Islamabad. New resort will have 4-star hotel, chairlift, cable car,snow boarding and ski slopes for adventure lovers, national and international tourist. Resort will be first of its kind in Pakistan with mega facilities for winter sporting and adventure tourism.

 

 

 

 

 

 

ٹراؤٹ : سوات کی مشہور سوغات

Boi7tpKIQAAwBtTجس طرح ہر علاقہ اپنی کسی مخصوص سوغات کی وجہ سے جانا جاتا ہے اسی طرح سوات بھی ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش اور خوراک کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے۔ سوات میں پہلی ٹراؤٹ فش ہیچری 1950 میں قائم ہوئی تھی جبکہ سب سے بڑا ایکوا کلچر (آبی کلچر) بھی سوات کے علاقے مدین میں ہے۔ 1988 سے اس کاروبار سے منسلک محمد سعید نے بی بی سی کو بتایا کہ سوات میں تین قسم کی ٹراؤٹ مچھلیوں کی افزائش ہوتی ہے جن میں کیم لوپ، رین مبو اور براؤن شامل ہیں، جن کی قیمت بالترتیب سات سو، نو سو اور 12 سو روپے فی کلو ہے۔

تاہم اس کاروبار کو سیلاب سے خطرہ لاحق ہے اور پچھلے سال تین فش فارمز مکمل طور پر تباہ ہو گئے تھے جس کی وجہ سے انھیں ایک کروڑ روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔DSCF9381

سوات میں محکمہ فشریز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ابرار احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ خیبر پختونخوا میں سوات ٹراؤٹ کی پیداوار میں پہلے نمبر ہے جہاں اس کی پیداوار پانچ سے چھ ٹن ہے، تاہم سوات میں دہشت گردی اور سیلاب کے باعث اس شعبے کو بہت نقصان ہوا تھا اور ٹراوٹ فش فارمز تقریبا ختم ہوگئے تھے۔ تاہم اب حکومت اور مختلف غیر سرکاری تنظیموں کی مدد سے یہ بحال ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق سوات میں مچھلیوں کی 22 سے 25 اقسام پائی جاتی ہیں۔ سوات کی ٹراؤٹ مچھلی یہاں آنے والے سیاحوں کی پسندیدہ خوراک ہے۔ فش فارم پر بحرین سے آنے والے محمد سید نے بتایا کہ کہ اسلام آباد سے ان کے دوست آئے ہیں جن کے لیے وہ ٹراؤٹ مچھلی خریدنے آئے ہیں کیونکہ یہ ان کے مہمانوں کی فرمائش ہے کہ انھیں ٹراؤٹ مچلی ہی کھلائی جائی۔

ان کے مطابق ان کے بہت سے دوست فیملیز کے ہمراہ سیر کے لیے آتے ہیں اور ٹراوٹ فش ان کی خوراک کی فہرست کا لازمی حصہ ہوتی ہے۔ سوات کے تقریباً تمام ہوٹلوں میں ٹراؤٹ مچھلی دستیاب ہوتی ہے، تاہم فرائی مچھلی کی قیمت 15 سو روپے فی کلو تک ہوتی ہیں جسے سیاحوں کے علاوہ مقامی لوگ بھی بڑے شو سے کھاتے ہیں۔ ایک ہوٹل کے مالک قیوم جان نے بتایا کہ ٹراوٹ فش سوات کی مشہور خوراک ہے اور دن 11 بجے سے لے کر رات دیر تک مقامی اور غیر مقامی لوگوں کی بڑی تعداد ان کے ہوٹلوں پر آتی ہے۔ گرمیوں اور سردیوں دونوں موسموں میں ٹراؤٹ کا کاروبار عروج پر ہوتا ہے مدین میں قائم ایک فارم کے مالک نے بتایا کہ گرمیوں میں اوسطا ماہانہ چھ سو سے ایک ہزار کلو تک فروخت ہوتی ہیں جبکہ سردیوں میں اسلام آباد اور دیگر شہروں کے بیوپاری تھوک کے حساب سے خریداری کرتے ہیں جس سے سیل بہت بڑھ جاتی ہے۔

انور شاہ

صحافی، سوات

 

مالم جبہ میں چیئر لفٹ کی بحالی

 

Chair Lift Ride at Malam Jabba, Swat, Pakistan

Tourists from across the country are enjoying a ride on the chairlift, installed after eight years of long wait at the 9,200-feet high Malam Jabba tourist resort. The previously installed chairlift constructed with the financial assistance of the Austrian government was destroyed during insurgency in 2008. However, in 2014, the Khyber Pakhtunkhwa government announced to reconstruct the Malam Jabba ski resort featuring a four-star hotel, a chairlift, a cable car, snowboarding and ski slopes for national and international tourists. This season, the cable car started operations to transport tourists to the peak of Malam Jabba offering panoramic view.
Abdul Samad Khan, a tourist from Shangla, said he frequently visited Malam Jabba, but was astonished to see the addition of chairlift and some other development works. “With the newly built facilities for tourists Malam Jabba has become the most attractive part in Pakistan,” he said. “Though the road from Mingora to Malam Jabba is only 45 kilometers long it took us three hours to reach here because of its bad condition. If the government reconstructs the road more tourists will come,” said Samad Khan.

سوات میں 2000 سال پرانے یونانی شہر کے آثار دریافت

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات میں ماہرین آثارقدیمہ نے تحصیل بریکوٹ میں بازیرہ کے مقام پر سکندر اعظم کے دو ہزار سال پرانے یونانی شہر کے آثار دریافت کیے ہیں۔ سکندر اعظم کے دور کا بازیرہ سوات کا ایک قدیم قصبہ ہے جو مرکزی شہر مینگورہ سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔  پاکستان میں اطالوی آرکیالوجی مشن کے سربراہ ڈاکٹر لوکا ماریہ کے مطابق دریافت شدہ ہندو یونانی شہر کے آثار کا تعلق دوسری صدی قبل مسیح سے ہے۔ ان کے مطابق آرکیالوجسٹ کی ٹیم پاکستانی اور اطالوی ماہرین پر مشتمل تھی جنھوں نے ہندو یونانی شہر کے آثار کے علاوہ ساتویں اور آٹھویں قبل مسیح کے گندھارا آثار کو بھی دریافت کیا ہے جب کہ تیسری صدی قبل مسیح کی موریا سلطنت کے آثار بھی ملے ہیں۔

 بازیرہ بریکوٹ کا اصل اور پرانہ نام ہے کہا جاتا ہے کہ سکندر اعظم نے 327 قبل مسیح میں اس کو فتح کیا تھا. بازیرہ کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ یہ سکندر اعظم کے شہر سے موسوم ہے جہاں اطالوی آرکیالوجی مشن سنہ 1984 سے کھدائی کر رہا ہے جہاں انھوں نے یونانی، موریا، ہندو یونانی، ہندو شاہی اور اسلامی دور کے آثار دریافت کیے ہیں۔ آرکیالوجسٹ نیاز شاہ نے کو بتایا کہ حالیہ کھدائی تاریخی لحاظ سے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ ان کے مطابق جن دو جہگوں پہ کھدائی ہوئی ہے ان میں ایک کشان دور کی ہے جس میں ایک مندر کے آثار ملے ہے اس میں پانی کی ٹینکی بھی ملی ہے اور اس کا تعلق تیسری صدی عیسوی سے ہے۔

دوسری جگہ پر ہونے والی کھدائی کی اہمیت اس وجہ سے بھی زیادہ ہے کہ اس میں گریک دور کے بعد کے جو لوگ اور ادھر کے جو لوگ تھے وہ آپس مل گھل مل گئے تھے اس سے ہندو گریک وجود میں آیا وہ لوگ اس شہر میں بسے ہے اور ان کا تعلق دوسرے قبل مسیح سے ہے اور اس دور کے کافی واضح اثار ملے ہیں جسمیں برتن کے ٹکڑے ، ہتھیار اور اس دور کے بادشاہوں کے سکے و دیگر سامان ملا ہے. بازیرہ میں یہ کھدائی پوری دنیا میں جنوبی ایشیا میں اور پاکستان میں بریک تھرو ہے. سوات مختلف آثار قدیمہ، گندھارا تہذیب اور مختلف مذاہب کے حوالے سے ہزاروں سال قدیم تاریخ اور آثار رکھتا ہے۔

اس حوالے سے ماہر ثقافت فضل خالق نے بتایا کہ کتابوں میں مذکور ہے کہ سکندر اعظم یہاں آیا تھا لیکن اس حوالے سے ہمارے پاس دستیاب ثبوت کم تھے لیکن اب جو کھدائی ہوئی ہے اور جو چیزیں دریافت ہوئی ہے ان سے ہمارے پاس کافی ثبوت ہے۔  بازیرہ بریکوٹ کا اصل اور پرانہ نام ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سکندر اعظم نے 327 قبل مسیح میں اس کو فتح کیا تھا اور یہ ہندو یونانی دور میں ایک مظبوط فوجی چھاونی کے طور پر بنایا گیا تھا۔ جب اس چھاونی کی حیثیت ختم ہوئی تو یہ ایک بڑے شہر کی حیثیت اختیار کرگیا اسکے علاوہ بریکوٹ میں اور بھی بہت سے مقامات پر اثار قدیمہ دریافت ہوئے ہیں۔

سید انور شاہ

صحافی

%d bloggers like this: